مشن میں شرکت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۸
ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو خدا کی عظمت کا زندہ اعلان بن جاتا ہے۔
میں آسمان کے مہیب منظر میں کھویا ہوا تھا کہ ایک روشن چیز ایک طرف سے دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی۔ یہ بظاہر غیر متحرک ستاروں کے درمیان ایک متحرک ستارہ تھا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ انسانی ساخت کا سیارہ ہے جو سورج کی روشنی پڑنے سے چمک رہا ہے ۔ آجکل مختلف ممالک نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنے خلائی سیارے اوپر بھیج رکھے ہیں جو مسلسل زمین کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور رات کے مختلف حصوں میں دیکھنے والوں کو نظر آتے ہیں۔ یہ مصنوعی سیارہ دیکھنے میں ایک روشن ستارہ تھا۔ دوسرے ستارے بظاہر ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ تیزی سے ایک طرف سے دوسری طرف کو چلا جا رہا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آسمان کے ستارے اس سے کہیں زیادہ روشن ہیں اور کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ گردش کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ستارے ٹھہرے ہوئے نظر آتے ہیں اور مصنوعی سیارے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ستارے بہت زیادہ دور ہیں اور مصنوعی سیارہ بہت زیادہ قریب۔ نیز یہ کہ ستاروں کی روشنی ان کی اپنی روشنی ہے اور مصنوعی سیارہ کی روشنی صرف سورج کی روشنی ۔ اگر سوچنے والی عقل نہ ہو تو صرف دیکھنے والی آنکھ آدمی کو کتنی بڑی غلطی میں مبتلا کر سکتی ہے۔
کائنات خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ آدمی اس کے اندر سفر کرتا ہے مگر اس کے سفر میں اور مصنوعی سیارہ کے سفر میں کوئی فرق نہیں۔ انسان خدا کی دنیا میں اپنے صبح و شام بتاتا ہے مگر خدا سے اس کی ملاقات نہیں ہوتی۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ نہیں آتا جب کہ خدا سے اس کا سامنا ہو اور وہ اس سے باتیں کرے ۔ خدا کی تجلیوں میں سے کسی تجلی سے اس کی نظر نہیں ٹکراتی جو اس کو تڑپائے اور اس کو اشک بار کر دے۔
یکم مئی کا سورج طلوع ہوا اور ہرے بھرے درختوں پر اس کی سنہری کرنیں پڑیں تو درخت اس کی روشنی سے چمک اٹھے۔ چڑیاں پھد کنے اور چہچہانے لگیں۔ درختوں کی شاخیں ہوا میں ہلتی ہوئی دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گویا وہ ربانی نغمہ کو سن کر رقص کر رہی ہوں۔ سارا ماحول قدرتی حسن کے سیلاب میں ڈوب گیا۔ اچانک میری زبان پر قرآن کی یہ آیتیں آگئیں:
واشرقت الارض بنور ربھا و وضع الکتاب وجای بالنبیین والشہدا ء وقضی بینہم بالحق و ہم لا یظلمون (الزمر (۶۹)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues