مشن میں شرکت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۹
میں نے کہا : آج کی دنیا نوٹس سے روشن ہوتی ہے ، آخرت کی دنیا براہ راست نور خداوندی سے روشن ہوگی۔ آج کائنات کی چیزیں خدا کے آلار (کرشموں) پر غیر محفوظ حمد کہہ رہی ہیں ، آخرت میں ساری کائنات محفوظ طور پر الحمد للہ رب العالمین کہہ اٹھے گی۔ آج ہر آدمی اپنی مرضی چلانے کے لئے آزاد ہے ، آخرت میں کتاب اور میزان عدل کی حکمرانی ہوگی۔ آج دھاندلی اور موقع پرستی میں زو یہ ، آخرت میں صرف ان باتوں میں زور ہوگا جن کو لے کر انبیاء اور شہدار کھڑے ہوتے ہیں۔ خدا کے ظہور کے بعد دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہوگی۔ اس کا ابتدائی اندازہ اسی فانی دنیا میں ہورہے ہیں۔ یہاں قدرت کی دنیا کو دیکھئے۔ سورج یہ مظاہرہ کر رہا ہے کہ تاریک مادہ کس طرح خدا کے حکم سے روشن ہو جاتا ہے۔ درخت یہ منظر پیش کر رہا ہے کہ خدا کس طرح مادہ کو شاداب درخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ زندگی کی انواع بتا رہی ہیں کہ خدا کا اشارہ پا کر کس طرح بے جان چیز جاندار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ انسانی دماغ کا حیرت ناک واقعہ بتا رہا ہے کہ بے شعور جسم کس طرح شعور اور ارادہ کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔
خدا کی دنیا کیسی عجیب ہے ، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہم یہ سوچیں کہ کیا تمام انسان مل کر ایسی دنیا بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان مل کر ایک پتی بھی نہیں بنا سکتے اور کائنات کا یہی ایک پہلو اس کی حیرت ناکی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔
انسان کے لئے کوئی ایسا کارخانہ بنا ناممکن نہیں جس کے اندر مٹی ڈالی جائے اور وہ درخت بن کر نکلے جس کے اندر گھاس ڈالی جائے اور وہ دودھ اور گوشت بن کر نکلے جس کے اندر لکڑی اور پتھر ڈالا جائے اور وہ پھول اور پھل بن کر نکلے۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر آن بے حساب مقدار میں یہ سارے واقعات ہو رہے ہیں۔
امریکی انسان جب خلائی جہاز کے ذریعہ چاند پر پہنچا تو میں اس روز رات کو ایک اردو اخبار کے دفتر میں گیا ۔ اس وقت ٹیلی پرنٹر پر تفصیلات آرہی تھیں اور وہ مسلسل ترجمہ کر کے کا تب صاحبان کو دی جارہی تھیں۔ ایڈیٹر صاحب نے گفتگو کے دوران کہا :
بڑی تھرلنگ نیوز آرہی ہیں۔
میں نے سوچا ، کیسی عجیب بات ہے کہ انسانی واقعات لوگوں کے اندر تھرل (Thrill) پیدا کر رہے ہیں۔ مگر خدائی واقعات ان کے اندر کوئی تھرل پیدا نہیں کرتے۔ لوگ مخلوقات کے کارناموں کو دیکھ کر ججھوم اٹھتے ہیں مگر خالق کے کارناموں کو دیکھ کر جھومنے والا کوئی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues