سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۰
گراموفون کا ریکارڈ بظاہر ایک کامل خاموش تختی ہے۔ لیکن اگر اس کے اوپر سوئی رکھ دیجیے تو اچانک وہ ایک انتہائی بولنے والی تختی بن جائے گی۔ یہی حال موجودہ کائنات کا ہے۔ کائنات بظاہر انتہائی خاموش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہہ وہ ریکارڈ سے زیادہ آواز یں اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ خدا نے کمال درجہ قدرت کے ساتھ ایک انتہائی بولتی ہوئی کائنات کو ایک انتہائی خاموش کائنات میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاکہ اس کے سریلے نغموں کو وہی لوگ سنیں جو اس کو سننے کا حق رکھتے ہیں۔ اور جو ناکارہ لوگ ہیں وہ اس کو سننے اور جاننے سے اندھے، بہرے بنے رہیں۔
کی دنیا کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہی اندھا پن اور بہرا پن ہے۔ کائنات خدا کا انتہائی کھلا ہوا اظہار ہے۔ مگر یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا اظہار آج سب سے زیادہ چھپا ہوا واقعہ بن گیا ہے۔ آج نہ کوئی آنکھ ہے جو اس کو دیکھے اور نہ کوئی زبان ہے جو اس کو بیان کرے۔
خدا کی دنیا خدا کی باتوں سے خالی ہو رہی ہے۔ آج انسانوں کی عظمت بیان کرنے والے بے شمار ہیں مگر خدا کی عظمت بیان کرنے والا کوئی نہیں۔ آج تاریخی نشانیوں کو دیکھ کر لوگ تڑپ رہے ہیں مگر خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر تڑپنے والا کوئی نہیں۔ مخلوقات کی شان میں گم ہونے والے بے شمار ہیں مگر خدا کی شان میں گم ہونے والا کوئی نہیں۔
آہ، کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں ہر طرف دوڑ لگ رہی ہو مگر خدا کی طرف دوڑنے والا کوئی نہ ہو۔ جہاں انسانی تقریریں سننے کے لئے لوگوں کی بھیڑ جمع ہو مگر جہاں خدا کا بول نشر کیا جا رہا ہے وہاں سناٹے کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔
اپریل 1984 میں مسٹر راکیش شرما روسی راکٹ کے ذریعہ خلا میں گئے۔ اس درمیان میں مخصوص مشینوں کے ذریعہ ان کا ربط زمین سے قائم تھا۔ ان کی آواز بھی یہاں سنائی دیتی تھی اور ان کی تصویر بھی نظر آتی تھی ۔ ایک انٹرویو کے دوران راکیش شرما سے پوچھا گیا کہ خلا سے آپ کو دنیا کیسی دکھائی دیتی ہے۔ انھوں نے کہا:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
راکیش شرما کا یہ جواب ان کی فطرت کا جواب نہیں تھا بلکہ وطن پرستی کے مصنوعی ذہن سے نکلا ہوا جواب تھا۔ اگر وہ وطن پرستی کے مصنوعی خیالات سے آزاد ہوتے اور فطرت کی سطح پر مذکورہ سوالات کا جواب دیتے تو وہ کہ اٹھتے :
سارے عالم سے اچھی ہماری زمیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues