سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱
اگر کوئی شخص دور کائنات میں کھڑے ہو کر پوری کائنات کو دیکھ سکے تو وہ ایک حیرت انگیز منظر کو اپنی آنکھ سے دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ ایک اتھاہ کا ئنات ہے جس میں یا تو دہشت ناک خلا ہے۔ یا دہکتے ہوئے ستارے یا پھر ٹھٹک دوڑتی ہوئی چٹانیں ۔ اس ناقابل قیاس حد تک وسیع کائنات میں ایک ہی استثناء ہے اور وہ اس چھوٹے سے ذرے کا ہے جس کو زمین کہتے ہیں۔ معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا گھر ہے جہاں پانی کی روانی ہے۔ جہاں ہر یالی کا رقص ہے۔ جہاں زندگی کی رعنائیاں ہیں۔ جہاں یہ حیرت ناک واقعات پائے جاتے ہیں کہ مادہ ہریالی میں تبدیل ہو۔ جہاں گھاس کھانے والے گھاس کھا کر اس کو دودھ اور گوشت میں کنورٹ کریں۔ جہاں وہ انسان ہو جو دیکھے اور سوچے اور نقشہ بنائے۔
ایسی استثنائی زمین پر انسان کو بسانا بتاتا ہے کہ خدا انسان کے اوپر ایک استثنائی انعام کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ کائنات کے اندر ایک انوکھی دنیا بنائی جائے جس کا نام جنت ہو۔ جہاں ہر قسم کی لذتیں جمع ہوں۔ جو ہر قسم کے ناموافق حالات سے پاک ہو۔ جو خدا کی صفات کمال کا ابدی ظہور ہو۔ ”یہ انوکھی جنت کس کو ملے گی “ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ اور قدرت کی حسین دنیا میرے لئے اس سوال کا جواب بن گئی۔ موجودہ زمین گویا ایک قسم کا ابتداعی نمونہ ہے جو بتاتا ہے کہ خدا آئندہ اپنی پسند کی کون سی دنیا بنانا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ وہ اپنی پسند کی اس دنیا میں کس قسم کے لوگوں کو بسائے گا۔ جنت اس کو ملے گی جو خدا کی دنیا میں درخت کی طرح شادابی کا ثبوت دے۔ وہ اس کو ملے گی جو چڑیوں کی طرح خدا کی حمد کے نغمے گائے وہ اس کے حصہ میں آئے گی جس کی روح سورج اور چاند طرح خدا کے نور سے چمک اٹھی ہو۔
یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں خدا کے داعی بنتے ہیں۔ خدا کی دعوت خدا کے اس خاموش پیغام کی ترجیل (Relay) کا دوسرا نام ہے جو کائنات میں ہر آن نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا داعی وہ ہے جو خدا کے فیضان کا آخذ (Recipient) بن جائے۔ وہ بولے تو اس کی آواز زمین و آسمان میں بلند ہونے والی گونج سے ہم آہنگ ہو جائے۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات انسانی الفاظ میں اس حمد کی ترجمانی بن جائیں۔ جو چڑیوں کی زبان سے فطرت کے لہجے میں سنائی جا رہی ہے۔ آخرت کا داعی بننے کے لئے دنیا سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ لوگ دنیا میں گم ہیں پھر وہ آخرت کے داعی کیسے بن سکتے ہیں۔ داعی بھی اگر وہیں کھڑا ہوا ہو جہاں لوگ کھڑے ہوئے ہیں تو وہ کبھی لوگوں کے اوپر دائی نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues