Al-Risala · November 1984 · page 42

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۲

واپسی میں گونڈہ سے لکھنؤ تک کا سفر محکمہ ٹیلی فون کی گاڑی سے کیا۔ یہ سفر کافی تکلیف دہ تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ مذکورہ گاڑی اگرچہ کار کی مانند تھی مگر اس میں غائب خٹاک ابزار برابر لگا ہوا نہیں تھا جو تمام جھٹکے کو پہیے کے اوپر ڈالتا رہتا ہے۔ چنانچہ سارے سفر میں وہ اپنا جھٹکا ہماری طرف منتقل کرتی رہی۔ میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ان انسانوں کا ہے جن کے سینہ میں جھٹکا سہنے والا مادہ نہ ہو۔ ایسے بے صبر اشخاص جن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں وہ ان کو اپنے غصہ اور انتقام کا جھٹکا دیتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے اوپر لگنے والے ہر جھٹکے کو دوسرے کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔

لکھنؤ سے دہلی تک کا سفر ہوائی جہاز سے طے ہوا۔ جاتے ہوئے بذریعہ ٹرین دہلی سے لکھنؤ پہنچنے میں ۱۲ گھنٹے لگتے تھے۔ واپسی میں یہی مسافت صرف ۴۵ منٹ میں طے ہوگئی۔ کتنا فرق ہے ایک وسیلہ میں اور دوسرے وسیلہ میں۔

خدا نے اپنی دنیا میں ہر قسم کے وسائل رکھ دئے ہیں۔ ادنیٰ بھی اور اعلیٰ بھی۔ یہاں "بیل گاڑی" کا ذریعہ سفر بھی ہے اور " ہوائی جہاز " کا ذریعہ سفر بھی۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلہ اور ہمت کا امتحان ہے کہ وہ کس وسیلہ کو اپنے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ کس منزل کو اپنی منزل بناتا ہے۔ جہاز کے اندر انڈین ایئر لائنز کا ماہنامہ سواگت (مئی سم ۱۹) پڑھنے کو ملا۔ اس میں ایک مضمون گول کنڈہ کے بارہ میں تھا۔ یہ ایک قلعہ نما شہر تھا جو پانچ سو سال پہلے ۱۵۱۶ء میں تعمیر ہوا۔ اس کو تعمیر کرنے والا سلطان قلی قطب تھا۔

مذکورہ ماہنامہ میں قدیم گول کنڈہ کے مختلف باقیات کی تصویریں تھیں۔ ایک تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا : فتح دروازہ۔ قدیم زمانہ میں جس عظیم عمارت کا نام "فتح دروازہ" تھا وہ آج ایک ٹوٹے ہوئے کھنڈر کی صورت میں صرف " کھنڈر دروازہ " کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ انسان ایک دن کے لئے فتح کا جشن منا کر خوش ہوتا ہے۔ حالاں کہ اس کے بعد ہزاروں سال تک وہ صرف شکست کی یادگار بن جانے والا ہے۔

مضمون میں ابراہیم قطب شاہ کے زمانہ کے احوال لکھتے ہوئے یہ فقرہ درج تھا : Muslim and Hindus lived together in perfect harmony اس کے دور میں مسلمان اور ہندو دونوں کامل اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے تھے (صفحہ ، ۵)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page