Al-Risala · November 1984 · page 43

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۳

کل امرئ راجع يوما لشیفته وان تخلّق اخلاقا الى حسين (ذو الإصبع عدانی) ہر آدمی ایک دن اپنی اصل عادت کی طرف لوٹ آتا ہے ، خواہ ایک مدت تک وہ مصنوعی اخلاق اپنائے رہے۔ لا يصلح الناس فوضی لا سراة لهم ولا سر اة اذا جهالهم سادوا (اَفوَه اودی) ایسے لوگوں کے معاملات سدھر نہیں سکتے جو بے سردار ہوں اور جب جاہل قسم کے لوگ سردار بن جائیں تب یہی سمجھ کہ کوئی سردار نہیں۔ وکل امرئ يوما سیعلم غیبہ اذا حصّلت عند الاله الحصائل (لبید بن ربیعہ) ہر شخص ایک دن اپنی چھپی ہوئی باتوں کو جان لے گا جب کہ خدا کے حضور اعمال کے نتائج جمع ہوں گے فاقنع بما قسم الملیك فانما قسم الخلائق بیننا علاّ مها (لبید بن ربیعہ) خدا نے جو تقسیم کردی ہے اس پر قانع رہو کیوں کہ ہمارے درمیان عادات و اخلاق کی یہ تقسیم بڑے دانانے کی ہے وعوراء قد اعرضت عنها فلم یض ودئ او قومته فتقو ما (حاتم طائی) بہت سی نازیبا باتوں سے میں نے اعراض کیا تو میرا کچھ نہ بگڑا، بہت سے کج خلقوں کو میں نے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو وہ سیدھے ہوگئے دان امرأ يمسی ويصبح سالماً من الناس الا ماجنی لسعید (حسان بن ثابت) جو شخص صبح سے شام تک لوگوں کے ظلم سے بچارہے اور صرف اپنے کہنے کو بھگتے وہ یقیناً خوش قسمت ہے۔ واذا افتقرت الى الذخائر لم تجد ذخرا يكون كصالح الاعمال (اخطل) جب تمہیں ذخیروں کی ضرورت ہوگی تو نیک اعمال سے زیادہ قابل قدر کوئی ذخیرہ نہ پاؤ گے۔ لا تصحب الكسلان في حالاته کم صالح بفساد آخر يفسد (ابوبکر بن عباس خوارزمی) کاہل کے ساتھ نہ رہو، کتنے ہی اچھے آدمی دوسروں کی خرابی سے بگڑ جاتے ہیں اذا تم شئ بدا نقصه توقع زوالا اذا قیل تم (خوارزمی)

جب کوئی چیز پوری ہو جاتی ہے تو پھر اس میں کمی ہونے لگتی ہے جیم سے کہا جائے کہ فلاں چیز مکمل ہوگئی تو اس کے زوال کا انتظار کرو اذا كنت في كل الامور معاتباً صديقك لم تلق الذي لا تعاتبه (بشار بن برد) اگر تم ہر بات میں اپنے دوست پر عتاب کرتے رہو گے تو تمہیں کوئی بھی ایسا دوست نہیں ملے گا جس پر تم کو عتاب نہ کرنا پڑے الصمت اجمل با لفتی من منطق في غير حينه (ابو العتاہیہ)

انسان کے لئے بے وقت بولنے سے خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے عدوّك من صديقك مستفاد فلا تستكثرنّ من الصحاب (ابن الرومی)

تمہارا دشمن تمہارے دوستوں ہی میں سے بنتا ہے، اس لئے اپنے دوست زیادہ نہ بناؤ ترجوا النجاة ولم تسلك مسالكها ان السفينة لا تجرى على اليبس (ابوالعتاهیه)۔ تو نجات کا امید وار ہے مگر اس کے راستوں پر نہیں چلتا ، کیا تجھے نہیں معلوم کہ کشتی کبھی خشکی پر نہیں چلتی حب السلامة يثني عزم صاحبه عن المعالي ويفضى المرء بالكسل (ابو اسمعیل معین بن علی طغرائی) عافیت پسندی کی خواہش آدمی کے عزم و ہمت کو بلند مقاصد سے موڑ کر سہولت پسند بنا دیتی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page