قدر دانی
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۸
اس
ایک حدیث
عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ان الله يرضى لكم ثلاثاً - يرضى لكم ان تعبدوه ولا تشركوا به شيئاً وان تعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا وان تناصحوا من ولاه الله امركم - ويبسخط لكم ثلاثاً - قيل وقال وكثرة السؤال واضاعة المال (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تم سے تین باتوں پر راضی ہوتا ہے ۔ وہ اس پر راضی ہوتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑے رہو اور متفرق نہ ہو۔ اور یہ کہ اللہ جس شخص کو تمھارا امیر بنائے اس کی خیر خواہی کرو۔ اور اللہ تم سے تین باتوں پر ناراض ہوتا ہے۔ قیل وقال سے۔ سوال کی کثرت سے اور مال کو ضائع کرنے سے۔
اللہ کی عبادت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ اللہ کے بغیر آدمی کو اپنی زندگی سونی معلوم ہونے لگے۔ اس کے مقابلہ میں شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور چیز کو اپنی دل چسپی اور توجہ کا مرکز بنا لے۔ شرک کو چھوڑنا اور اللہ کا عبادت گزار بننا آدمی کو بے نفس اور بے انا بناتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصوصیات پیدا ہو جائیں وہ یقینی طور پر آپس میں جڑ جائیں گے۔ وہ ایک دوسرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ اسی طرح جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اس کے بارہ میں مسلمانوں کا رویہ خیر خواہ جیسا ہونا چاہئے نہ کہ حریف جیسا۔ مسلم کی ایک اور روایت کے مطابق دین ہر ایک کے لئے نصیحت (خیر خواہی) کا نام ہے اور اسی طرح حکم رانوں کے لئے بھی (ولا ئمۃ المسلمین)۔ عام لوگ جب حکم رانوں کے اندر برائی دیکھتے ہیں تو اس کے خلاف ہنگامے کرتے ہیں اور اس کو تخت سے بے دخل کرنے کی مہم چلاتے ہیں۔ مگر مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ محبت کے ساتھ حکمراں کی اصلاح کی کوشش کرے۔ اللہ کو ایسے بندے پسند ہیں جو قول سے زیادہ عمل سے دل چسپی رکھتے ہوں۔ اس لئے وہ قیل و قال کی بحث سے سخت ناراض ہوتا ہے۔ وہ ایسے لوگوں پر غضب ناک ہوتا ہے جو غفلت اور بے حسی میں پڑے رہتے ہیں اور غیر ضروری سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح اللہ جن لوگوں کو مال دے اور اس کو وہ حقیقی مد میں خرچ کرنے کے بجائے ادھر ادھر ضائع کرتے رہیں وہ خدا کی نظر میں بد ترین جانور ہیں۔ خدا کبھی ایسے لوگوں پر اپنی رحمت کا سایہ نہیں کرے گا۔ پوٹاشیم دہی، دیسی گھی، لسی اور دہی کے اوپری پرپ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues