Al-Risala · February 1984 · page 9

مومن وکافر کا فرق

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۹

مومن وکافر کا فرق

قرآن کی سورہ نمبر ۷۸ میں بتایا گیا ہے کہ جب قیامت آئے گی اور سارے لوگ خدا کے حضور جمع کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنی اس کمائی کو دیکھیں جو انہوں نے اپنے آگے کے لئے بھیجی تھی۔ اس وقت منکر اور سرکش کا یہ حال ہوگا کہ جب وہ اپنے انجام کو دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا: اے کاش میں مٹی ہوتا (ویقول الکافر یا لیتنی كنت ترابا)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ جب ان کو ابو لولو فیروز نے زخمی کیا اور آپ کا آخر وقت آگیا تو آپ کے صاحبزادے آپ کا سراپنی ران پر رکھے ہوئے تھے حضرت عمر نے کہا: اے عبداللہ ، میرا رخسار زمین سے ملا دے (الصق خدِی بالارض یا عبد اللہ ) آپ کے صاحبزادے نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اپنا چہرہ زمین پر رکھ کر کہا۔ اے عمر، تیری خرابی ہے اور تیری ماں کی خرابی ہے، اگر خدا نے تجھے معاف نہ کیا۔ اس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی (طبقات ابن سعد)

ان دونوں واقعات کا مقابلہ کرکے دیکھئے۔ جو بات کافر کی زبان سے آخرت میں نکلے گی وہ مومن کی زبان سے اسی دنیا میں نکل رہی ہے۔ کافر موت کے بعد آنے والی دنیا میں چاہے گا کہ کاش وہ مٹی میں مل جاتا۔ مومن موت سے پہلے کی دنیا میں کہہ رہا ہے کہ مجھے مٹی میں ملا دو۔ خدا جب سامنے ظاہر ہو جائے گا تو کس کی مجال ہے کہ اس سے سرکشی کرے۔ اس وقت ہر آدمی اس کے سامنے جھک جائے گا۔ مگر خدا کے لئے جھکنا صرف وہ معتبر ہے جو خدا کے سامنے آنے سے پہلے ہو۔ یہی کافر اور مومن کا فرق ہے۔ کافر اس وقت جھکے گا جب خدا اعیناً اس کے سامنے ظاہر ہو جائے۔ مگر مومن اس وقت خدا کے لئے جھک جاتا ہے جب کہ خدا ابھی پردہ غیب میں چھپا ہوا ہے۔ لوگ خدا کے باغی صرف اس لئے ہیں کہ خدا آج ان کے سامنے موجود نہیں ہے۔ جب خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ دکھائی دینے لگے تو کون اس کا باغی بن سکتا ہے۔ انسان تو شیر کے سامنے بھی اس کا باغی نہیں بنتا، پھر شیر کے خالق کے سامنے کون اس کا باغی بننے کی جرات کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ کافر پر آخرت میں گذرنے والا ہے وہ مومن پر اسی دنیا میں گذر جاتا ہے۔ کافر خدا کو دیکھ کر ڈڑھ پڑے گا۔ مومن وہ ہے جو خدا کو دیکھے بغیر ڈھڈپڑے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page