The Cry of the Halidon
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰
کے لئے تو خوب استعمال کیا مگر وہ اسے اللہ کے پیغام کو اہل عالم تک پہنچانے کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ یہ عملی غفلت اب فکری غفلت تک جا پہنچی ہے۔ چنانچہ اب یہ حال ہے کہ اگر ان کو اس فریضہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو کوئی کہے گا کہ تم مسلمانوں کو جہاد کے محاذ سے ہٹانا چاہتے ہو۔ کسی کا جواب یہ ہوگا کہ ابھی تو مسلمانوں کا اپنا وجود خطرہ میں ہے پھر وہ کوئی دوسرا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ کسی کو کہنے کے لئے یہ الفاظ مل جائیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لیجیے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی فکر کیجئے۔ قدیم زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دعوت کا جذبہ تھا۔ اس وقت ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچنے کے لئے مہینوں کا وقت درکار ہوتا تھا۔ پھر بھی وہ سمندروں کو پار کر کے دور دراز ملکوں میں پہنچے اور مشرک ملکوں کو موحد ملک بنا دیا۔ آج جوں کہ مسلمانوں کے اندر سے دعوت کا جذبہ نکل گیا ہے اس لئے وہ طرح طرح کے عذر لنگ تراش کر کے اپنے آپ کو اس سے فارغ کئے ہوئے ہیں۔
الرسالہ پڑھنے والوں کو” ملیشیا‘‘سے سے میری دل چسپی کا راز از جاں مشکل نہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ملیشیا کا علاقہ اسلام کی دعوتی قوت کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ اس علاقہ میں اسلام صرف اپنی دعوتی قوت کے ذریعہ پھیلا۔ یہاں کوئی بھی عسکری طاقت استعمال نہیں کی گئی۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت مسلم تاجروں کے ذریعہ اس وقت ہوئی جب کہ اسلام کی عسکری قوت بالکل برباد ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر آرنلڈ نے بجاطور پر لکھا ہے کہ اگرچہ بعد کے سالوں میں اسلام کی عظیم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور اس کی سیاسی طاقت ختم ہوگئی تاہم اس کی روحانی فتوحات کسی وقفہ کے بغیر جاری رہیں۔ جب منگول قبائل نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کو تباہ کر دیا اور عباسی مملکت کو خون میں ڈبو دیا۔ اور جب مسلمان ۱۲۳۶ء میں قرطبہ سے فرڈینینڈ کے ہاتھوں نکال دئے گئے اور غرناطہ جو اسپین میں اسلام کا آخری مرکز تھا اس نے عیسائی بادشاہ کو خراج ادا کیا تو عین اس وقت اسلام سماترا میں داخل ہو چکا تھا اور جزائر ملایا میں اپنی فتوحات کا آغاز کر رہا تھا۔ اپنے سیاسی انحطاط کے زمانہ میں بھی اسلام نے شاندار روحانی ترقی حاصل کی ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues