Al-Risala · December 1984 · page 30

Money is his substitute for religion

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰

پر آخری حملہ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا پڑا۔

گویا ہندوستان میں اس مدت میں جو قابل ذکر واقعہ ہوا وہ صرف مذکورہ بالا واقعہ تھا۔ موجودہ زمانہ کی صحافت اپنے تجارتی مقصد کے تحت انہیں واقعات کو نمایاں کرتی ہے جو سنسنی خیز ہوتے ہیں۔ یہ ہر ملک کی صحافت کا حال ہے۔ حالاں کہ واقعات کی اصل فہرست اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جو شخص ملک کے اندر ان سنسنی خیز واقعات کو پڑھ رہا ہو وہ بھی اگرچہ اس سے گمراہ ہوتا ہے۔ مگر نسبتاً کم ۔ کیوں خود واقعات کے درمیان ہونے کی بنا پر وہ دوسری قسم کے واقعات کا بھی تجربہ اور مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ مگر جو شخص باہر کے ملک میں ہو اور جس کا ذریعہ صرف مذکورہ بالا قسم کی صحافت ہو وہ کسی ملک کے بارہ میں عجیب و غریب قسم کی رائے قائم کر لیتا ہے۔ جو سراسر غیر حقیقی اور مغالطہ آمیز ہوتی ہے۔ باہر کے ملکوں میں اپنے ملک کی خبر پڑھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ملک کے بارہ میں نہیں پڑھ رہے ہیں بلکہ کسی اجنبی ملک کے بارہ میں پڑھ رہے ہیں۔ حیدر آباد کے فساد (جولائی 1984) کے موقع پر میں کو الالمپور میں تھا۔ وہاں کے اخبار نیو سنڈے ٹائس (۲۹ جولائی1984)میں میں بیرونی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے حیدر آباد کے فرقہ وارانہ فساد کی خبر چھپی۔ یہ خبر بجائے خود بھی مبالغہ آمیز تھی۔ مگر خبر کے ساتھ یہ الفاظ انتہائی حیرت انگیز تھے : Hindus and Muslims have long had cultural and religious antagonisms. When the Muslims ruled India in the 10th and 18th centuries, they attempted to crush worship and culture, fuelling Hindu resentment. (انڈیا کے) ہندو اور مسلم لمبے عرصہ سے ثقافتی اور مذہبی دشمنی میں مبتلا ہیں۔ جب ۱۰ ویں صدی اور اٹھارویں صدی کے درمیان ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو انہوں نے ہندوؤں کے، مذہب اور ثقافت کو کچلنے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے ہندوؤں میں ناراضگی کا جذبہ بھڑک اٹھا۔

جو لوگ اس قسم کی خبریں پڑھیں ان کا ذہن کس قدر غلط بنے گا۔ مگر اس کے لئے ہمیں خود اپنے آپ کو الزام دینا چاہئے نہ کہ دوسروں کو۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں قدیم ذہن کے ساتھ داخل ہوئے۔ وہ زندگی کے صرف انہیں شعبوں سے آشنا تھے جو ہزاروں برس سے چلے آ رہے تھے۔ نئے شعبوں سے وہ بالکل بے خبر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم شعبوں (مثلاً خطابت اور شاعری) میں انہوں نے بہت نام پیدا کیا۔ مگر جدید شعبوں کی اہمیت سے وہ اس قدر بے خبر تھے کہ وہ اس میں داخل بھی نہیں ہوئے۔ انہیں میں ایک خبر رسانی کا ادارہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page