Money is his substitute for religion
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱
چھ خبر رساں ادارے ہیں جو دنیا کی خبروں کا ۸۰ فی صد حصہ فراہم کرتے ہیں اور وہ سب کے سب یہودیوں کے ہیں یا عیسائیوں کے۔
۲۶ جولائی کو انٹرنیشنل ہاؤس کے بڑے ہال میں کارروائی شروع ہوئی۔ سیمینار کا افتتاح ملایشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد (Dr Mahathir Bin Mohamad) نے کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر ان الفاظ پر ختم کی:
The future of Muslim societies is with Islam. Without Islam, they have no future. مسلم اقوام کا مستقبل اسلام کے ساتھ ہے۔ اسلام کے بغیر ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ یہ گویا "دکانزه" کا اجتماع تھا۔ تمام اعلی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان کی اکثریت مغربی یونی ورسٹیوں کی تعلیم یافتہ تھی۔ طریق کار یہ تھا کہ مقالہ نگار اپنا مقالہ پڑھ کر سناتا یا اس کو سامنے رکھ کر اس کا خلاصہ بیان کرتا اور اس کے بعد حاضرین اس پر اظہار رائے کرتے آخر میں وہ لوگوں کے تبصروں کا جواب دیتا۔ یہ سلسلہ ۲۶ جولائی کی شام سے 30۱ جولائی کی صبح تک جاری رہا۔ آخر میں مختلف علمی شعبوں کے حلقے (ورک شاپ) قائم کئے گئے۔ ہر ایک گروہ نے الگ الگ کمرہ میں اپنے موضوع کو اسلامی بنانے کے بارہ میں بحث کی اور اپنی رپورٹ تیار کی۔ ورک شاپوں کی یہ رپورٹیں ۳۱ جولائی کی نشست میں پڑھی گئیں۔ پھر انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر عبد الحمید ابو سلیمان کی اختتامی تقریر ہوئی۔ آخر میں ڈاکٹر احمد ذکی (امریکہ) کی دعا پر سیمینار کا خاتمہ ہوا۔ میں نے اس موقع پر جو مقالہ پیش کیا وہ انگریزی میں تھا۔ اس کا اردو خلاصہ انشاء اللہ الرسالہ کے آئندہ ایڈیشن میں شائع کر دیا جائے گا۔
سیمینار کے سلسلے میں چند سبق آموز یادداشتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی نے اپنی انگریزی تقریر میں کہا کہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کا آخری نشانہ کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے لئے مکمل نصاب بنانا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ دنیا بھر کے مسلم اسکالروں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔ جن کی تعداد جلد ہی تقریباً 30 ہزار ہو جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مدد سے وہ جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کے تین دور ہیں: ۱۔ مغربی علوم کی کامل مہارت (Mastery of western tradition of learning) ۲۔ اسلامی علوم کی کامل مہارت (Mastery of Islamic tradition of learning)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues