(Criticism) ۳ تنقیدی جائزہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
جاہلوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انھوں نے سکھایا کیوں نہیں۔ بلکہ عالموں سے یہ پوچھا جائے گا کہ انہوں نے سیکھا کیوں نہیں۔
اس قسم کے اقوال کو عام طور پر لوگ مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان کا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ہالاں کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کا مسئلہ بھی ہے۔ جو لوگ سچائی سے بے خبر ہیں ان سے زیادہ ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو سچائی سے باخبر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی یہی غفلت ہے جس نے انھیں اللہ کی مدد سے محروم کر رکھا ہے۔ جب تک مسلمان بے خبروں کو باخبر کرنے کے لئے نہ اٹھیں گے وہ خدا کی مدد کے حق دار نہیں بن سکتے۔ 27 جولائی کو ڈاکٹر روزے گارودی کا مقالہ تھاا۔ انھوں نے اپنا مقالہ فرانسیسی زبان میں لکھا تھا جو ان کی مادری زبان ہے۔ اس کا مقالہ ترجمہ کوالالمپور میں انگریزی میں کرایا گیا۔ یہی انگریزی مقالہ انھوں نے پڑھ کر سنایا۔ آج حال سب سے زیادہ بھرا ہوا تھا۔ ڈاکٹر گارودی کے مقالہ کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام اور عقل میں کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں۔ یہ پہلے بھی مصنوعی تھ اور آج بھی مصنوعی ہے۔ لوگ بطور خود کچھ نظریات بناتے ہیں اور ان کو اسلامی کہہ کر پیش کرتے ہیں اس سے عقل اور اسلام کے درمیان مصنوعی ٹکراؤ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ It arises artificial conflict between reason and Islam ڈاکٹر گارودی نے کہا کہ اسلام کو زندہ کرنے کے ضرورت ہے کہ قرطبہ یونی ورسٹی کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اسپین میں دوبارہ اسلام پھیل رہا ہے۔ اسپینی نو جوان اسلام قبول کر رہے ہیں۔ وہاں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو ”اسلام کو اسپینی تاریخ کا لا یتنفک جزو“ قرار دیتے ہیں۔ ایک اسپینی نومسلم نے کہا ”بہت جلد قرطبہ میں مسلمانوں کی تعداد خلافت کے زمانہ سے بھی زیادہ ہو جائے گی“ ڈاکٹر روزے گارودی ( پیدائش ۱۹۱۳ ) فرانس کے کمیونسٹ لیڈروں میں سے تھے۔ Dr. Roger Garaudy 18-A, Av. du Boucht, 1209 Geneve, Switzerland انھوں نے ۱۹۸۲ میں اسلام قبول کر لیا۔ ان سے سیمینار کے دوران ملاقاتیں ہوئیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا تھا انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے کوئی اچانک فیصلہ نہیں تھا۔ میں نے اسلامی کلچر پر اپنی پہلی کتاب ۱۹۲۶ میں لکھی تھی۔ یہ کتاب اولاً فرانسیسی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues