Qur'an is a sound art par excellence
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
پر ملاقات ہوئی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ "آپ کا انگریزی الرسالہ ہم کو برابر مل رہا ہے اور بہت پسند ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ مسلم دنیا میں غالباً اتنا اچھا کوئی دوسرا انگریزی رسالہ موجود انھیں"۔
الرسالہ کے انگلش ایڈیشن کے بارہ میں اس طرح کے تاثرات مختلف مقامات سے مل رہے ہیں۔ مثلاً سعودی عرب کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے لکھا ہے" انگریزی الرسالہ کا ترجمہ بہت شاندار ہوتا ہے۔ مضامین کا انتخاب بھی بے حد موزوں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس دعوتی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرے"
ایک روز ایک عرب عالم نے ایک شخص سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا انھوں نے ایک کتاب (الاسلام یتحدی) لکھی ہے جس کو ہماری نسل کے ہر نوجوان نے پڑھا ہے۔ (قرأہ کل شباب فی جیلنا، یہاں سیمنار میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ عرب آئے تھے۔ وہ سب کے سب میری مذکورہ کتاب پڑھے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کو معلوم ہوتا کہ الاسلام یتحدی کا مصنف یہاں موجود ہے، وہ بڑے جوش اور محبت کے ساتھ ملتے۔ مگر سب سے زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ ان کو "الاسلام یتحدی" کے بعد میری سرگرمیوں کے بارہ میں صرف یہ معلوم تھا کہ میں ایک بدنام حکمران سے وابستہ ہوں۔ اس کے سوا انھیں میری سرگرمیوں کے بارہ میں بہت کم واقفیت تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ میں 1976سے ۱۹۷۹ تک الجمعیۃ ویکلی کے ذریعہ مسلمانوں کی ذہنی تعمیر کا کام کرتا رہا۔ ۱۹۷۴ سے اردو الرسالہ برابر جاری ہے اور ادارہ الرسالہ کے تحت میری کئی درجن اردو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ "بدنام حکمران" سے وابستگی کی داستان کا تعلق بھی میری اردو تحریروں سے ہے اور مذکورہ تعمیری اور دعوتی کام بھی اردو میں ہوا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ عرب علماء کو اردو کے ایک جزء کا علم مغالطہ آمیز اضافوں کے ساتھ ہے اور دوسرے بڑے جز کا نہیں کوئی علم نہیں۔
اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس خدمت کو انجام دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عرب اردو زبان سے واقف نہیں۔ اس لئے ان کو واقف کرانے والے ہمارے اردو داں دوست ہیں۔ جو مختلف اسباب کے تحت آجکل تمام عرب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی حضرات اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو میں ہونے والے ۹۹ فی صد کام سے ان کو باخبر نہیں کیا۔ اور اردو کے ایک فی صد جزء کو تحریف اور تغیر کے ساتھ بڑھا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues