موضوع حدیث
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳
موضوع حدیث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے (من كذب علی متعمد أ فليتبو أ مقعده من النار) یہ اور اس طرح کی دوسری روایات سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو آپ نے نہ کہی ہو سراسر حرام ہے۔ امام نووی نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی روایت کے بارہ میں جانے کہ وہ موضوع ہے یا اس کے موضوع ہونے کا گمان ہو اس کو ایسی حدیث کا بیان کرنا حرام ہے۔۔۔ ایسی حدیث خواہ احکام سے متعلق ہو یا ترغیب و ترہیب سے یا رقاق سے، ہر حال میں اس کو بیان کرنا حرام ہے۔
علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب الموضوعات (جلد اول) میں لکھا ہے:
قوم وضعوا الاحاديث في الترغيب ایک گروہ نے ترغیب و ترہیب میں حدیثیں والترهيب ليجيئوا الناس في زعمهم على گھڑی ہیں تاکہ اپنے گمان کے مطابق وہ لوگوں الخير ويزجر وهم عن الشر وهذا کو بھلائی کی طرف لائیں اور برائی سے انہیں تعاطي على الشريعة ومضمون فعلهم روكیں۔ مگر یہ شریعت پر زیادتی ہے۔ ان کے ان الشريعة ناقصة تحتاج الى تتمة فقد اس عمل کا مطلب یہ ہے کہ شریعت ناقص ہے، اتممنا وہ تکمیل کی محتاج ہے پس ہم نے اس کو مکمل کیا ہے۔
ماضی میں جن لوگوں نے حدیثیں گھڑیں وہ عام طور پر دو قسم کے تھے۔ ایک وہ جو دل سے اسلام کے مخالف تھے۔ اور اسلام کا مذاق اڑانا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے مضحکہ خیز قسم کے قصے بنائے اور ان کو صحابہ کرام اور رسول اللہ کی طرف منسوب کر کے عوام کے اندر پھیلا دیا۔ دوسرے وہ لوگ جو بذات خود مخلص تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ ثابت شدہ احادیث عام طور پر سیدھی سادی ہیں اور عوام کے لئے زیادہ اثر انگیز ثابت نہیں ہوتیں۔ چنانچہ انھوں نے عوام کے اندر ڈر اور شوق پیدا کرنے کے لئے طلسماتی قسم کی حدیثیں بنائیں۔ ان حدیثوں میں چھوٹے چھوٹے اعمال پر بہت بڑے بڑے ثواب کی امید دلائی گئی تھی یا بہت بڑے بڑے عذاب سے ڈرایا گیا تھا۔۔۔ مذکورہ دونوں گروہوں میں ایک مخلص تھا اور دوسرا غیر مخلص۔ مگر دونوں نے دین میں ایسی خرابیاں پیدا کیں جن کی تلافی اب کسی طرح ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues