Al-Risala · February 1984 · page 22

قانون کی حد

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

قانون کی حد

۲۶ اگست ۱۹۷۸ء کو دہلی میں بھیانک جرم کا ایک واقعہ ہوا۔ ایک فوجی افسر ایم چوپڑا کے دو بچے سنجے (۱۵) اور گیتا (۱۷) انتہائی بے قصور طور پر مار ڈالے گئے۔ نوجوان بہن بھائیوں کے اس قتل پر ملک کا ضمیر جاگ اٹھا۔ مجرمین کی تلاش شروع ہوئی۔ بالآخر قتل کے دونوں مجرمین جسبیر سنگھ عرف بلا (۲۵) اور کلجیت سنگھ عرف رنگا (۲۳) ایک ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آگرہ اسٹیشن پر پکڑ لئے گئے اس کے بعد دونوں پر قتل کا مقدمہ چلا۔ لمبی عدالتی کارروائی کے بعد دونوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔ مختلف قانونی مراحل سے گزر کر بالآخر دونوں کو ۳۱ جنوری ۱۹۸۲ء کو دہلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

ایڈیشنل سیشن جج ایم۔ کے۔ چاولا نے پانچ صفحات کے فیصلہ میں دونوں کے لئے موت کا حکم دیتے ہوئے لکھا:

The ends of justice would be met only if the two accused were put to eternal sleep, thereby allowing others to live in peace انصاف کے مقاصد صرف اسی طرح حاصل ہو سکتے ہیں کہ دونوں مجرم ہمیشہ کی نیند سلا دئے جائیں تاکہ دوسروں کو امن کے ساتھ جینے کا موقع ملے (ہندوستان ٹائمز یکم فروری ۱۹۸۲)

جج کے یہ الفاظ انسانی قانون کی حد کو بہت اچھی طرح بتاتے ہیں۔ انسانی قانون کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ مجرم اور سماج کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ وہ مجرم کو اس کے جرم کی حقیقی سزا نہیں دے سکتا۔ ایک شخص جب کسی معصوم جان کو ناحق ذبح کر دے تو یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ موجودہ محدود دنیا کی کوئی بھی سزا اس کے جرم کے برابر نہیں ہو سکتی۔ دنیا کا جج بس اتنا ہی کر سکتا ہے کہ جس شخص کے اندر اس قسم کا مجرمانہ ذہن دیکھے اس کو آئندہ کے لئے سماج سے ہٹا دے۔

موجودہ دنیا کی یہ محدودیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کے بعد ایک اور لامحدود دنیا آئے جہاں یہ کمی پوری ہو۔ جہاں کے جج کے امکان میں صرف یہ نہ ہو کہ وہ ظالم اور مظلوم میں جدائی کر دے بلکہ وہ ظالم کو اس کے ظلم کی ایسی سزا دے جو انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے والی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page