جنازہ کو دیکھ کر
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۴
جنازہ کو دیکھ کر
مرحوم کا جنازہ لوگ کندھوں پر اٹھائے ہوئے قبرستان کی طرف جا رہے تھے۔ اور میرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی تھی۔ مرحوم کے اس آخری سفر میں مجھے انسان اپنے آغاز سے اپنے انجام کی طرف جاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔
آدمی پیدا ہو کر دنیا میں آتا ہے تو فوراً ہی اس کو ماں کی شفقت اور باپ کی سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ عزیزوں اور دوستوں کے درمیان پرورش پاتا ہے۔ پھر وہ بڑا ہو کر ایک با اختیار انسان کی حیثیت سے زمین پر اپنی زندگی بناتا ہے۔
آدمی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اب اس کے وہی دوست اور رشتہ دار جو دنیا میں اس کے مددگار بنے ہوئے تھے، اس کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور زمین کے ایک ایسے گڑھے میں ڈال کر بند کر دیتے ہیں جہاں آدمی بالکل اکیلا ہوتا ہے۔ جہاں وہ ہوتا ہے اور اس کا خدا۔
آدمی اب تک اپنے جیسے انسانوں کے سامنے تھا، اب وہ برتر خدا کے سامنے ہوتا ہے۔ اب تک وہ اختیار کی دنیا میں تھا، اب وہ بے اختیاری کی دنیا میں اپنے آپ کو پاتا ہے۔ کیسا عجیب ہو گا وہ لمحہ جب ایک عاجز مطلق ایک قادر مطلق کے سامنے کھڑا ہوگا۔
موت کا یہ واقعہ ہر روز زمین کے اوپر ہوتا ہے۔ ہر روز آدمی کسی نہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر اس کو کچھ احساس نہیں ہوتا۔
احساس تو جب ہو جب کہ آدمی کے دماغ میں جنت اور جہنم ہو‘‘ میں نے سوچا۔ لوگوں کی سوچ بالکل دوسرے رخ پر چل رہی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں دوستی، رشتہ داری، کمانا اور گھر بنانا، جیسے مسائل بھرے ہوئے ہیں۔ وہ کسی آدمی کو اسی حیثیت سے جانتے ہیں۔ جب کوئی آدمی مرتا ہے تو وہ اس کے متعلق بس اتنا سوچ پاتے ہیں کہ ایک ساتھی بچھڑ گیا۔ ایک کمانے والا فرد ہم سے رخصت ہو گیا۔ وہ صرف دنیا کے ساتھ انسان کے تعلقات کو جانتے ہیں وہ آخرت کے ساتھ انسان کے تعلقات کو نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues