کار خانہ کائنات
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۵
کار خانہ کائنات
آپ کسی انسانی کارخانہ میں داخل ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں ہر چیز کے بارہ میں بتایا جارہاہے۔ اس کے ہر شعبہ میں تعارفی تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ ہر جگہ آدمی کھڑا ہوا ہے جو آپ کے ہر سوال کا پورا جواب دیتاہے۔ کارخانہ کی طرف سے آپ کو ایسا تعارفی لٹریچر بھی دیا جائے گا جس میں ضروری معلومات درج ہوں ۔
کائنات تمام کارخانوں سے زیادہ بڑا کارخانہ ہے۔ مگر یہاں نہ کہیں کوئی تعارفی بورڈ نظر آتا اور نہ کوئی گائیڈ ۔ یہاں منصوبہ بندی بھی ہے اور تعمیرات بھی۔ یہاں پیداوار بھی ہے اور پیکنگ اور سپلائی کا انتظام بھی۔ یہاں رسد اور طلب میں تناسب کا لحاظ بھی کیا جارہا ہے اور صنعتی فضلات کو دوبارہ استعمال میں لانے کا اہتمام بھی۔ یہاں ضبط اور توازن کا نظام بھی ہے اور خام سامان ہوں کی مسلسل فراہمی کا بند وبست بھی۔ یہ سب کچھ ہے مگر نہ کہیں کوئی اعلان کرنے والا ہے اور نہ بتانے والا۔ پہاڑوں کی بلندیاں کائناتی اسٹیج کی مانند نظر آتی ہیں مگر وہاں کوئی بولنے والا نہیں ۔ چڑیاں چہچہاتی ہیں تو شبہ ہوتا ہے کہ وہ شاید کسی بات کی خبر دے رہی ہیں مگر ان کی بولی سمجھ میں نہیں آتی۔ بجلی چمکتی ہے اور بادل گرجتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ کائنات کا آلہ مکبر الصوت ہے جس کے ذریعہ کچھ اعلان کیا جارہا ہے مگر اس کے الفاظ آدمی کے لیے قابل فہم نہیں ہوتے ۔
"ایمان" کسی آدمی کے اندر اسی خلا کو پُر کرتا ہے۔ وہ آدمی کو کائنات کے بھیدوں کا رازداں بناتا ہے۔ مومن ایک قسم کا سائنس داں ہے۔ سائنس داں بکھرے ہوئے کروں میں نظام شمسی کا پتہ لگاتا ہے وہ مادہ کے اندر چھپی ہوئی توانائی کو دریافت کرتا ہے۔ وہ غیر متحرک دھات میں متحرک مشین کو دیکھ لیتا ہے۔ اسی طرح مومن عالم ظاہر میں عالم غائب کو دیکھتا ہے۔ وہ مخلوقات میں اس کے خالق کو پالیتا ہے۔ وہ نظم کو دیکھ کر اس کے ناظم کا پتہ لگالیتا ہے۔
ایمان جب اپنی آخری انتہا کو پہنچتا ہے تو وہ دعوت بن جاتا ہے۔ دعوت دوسرے لفظوں میں کائنات کے غیر ملفوظ نغمہ کو الفاظ کی صورت دینا ہے۔ داعی خدائی خاموش نشریات کو با آواز اعلان میں منتقل کرتا ہے۔ وہ خدا کی پیغام کو سن کر اسے انسانوں تک پہنچاتا ہے دعوت خدا کی دنیا میں خدا کی نمائندگی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues