Al-Risala · March 1985 · page 23

گروی اعتراف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

گروی اعتراف

یہود تورات کو خدا کی کتاب مانتے تھے۔ اسی طرح عیسائی انجیل کو خدا کی کتاب مانتے تھے۔ مگر جب قرآن ان کے سامنے آیا تو اس کو انھوں نے خدا کی کتاب ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا ماننا گر وہی ماننا تھا نہ کہ حقیقی ماننا۔ وہ حق کو صرف اپنے گروہ کی بنیاد پر پہچانتے تھے نہ کہ اس کے جو ہر کی بنیاد پر چنانچہ انھوں نے اپنے گروہ ہی حق کو مانا اور گروہ سے باہر جو حق تھا اس کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے:

وإذا قيل لهم امنوا بما انزل الله قالوا نؤمن اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو (قرآن) بھیجا ہے بما انزل علينا ويكفرون بما وراءه وهو الحق اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کو مانتے ہیں جو ہمارے اوپر مصدق لما معهم (البقرہ، 91) اترا ہے۔ اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو اس کے سوا ہے حالانکہ وہ حق ہے اور اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔

یہ نفسیات جس کے تحت یہود و نصاریٰ نے قرآن کا انکار کیا تھا، وہ آج پوری طرح مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ آج مسلمانوں کا بھی یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ صرف گروہ ہی صداقت کو جانتے ہیں۔ وہ چیزوں کو اپنے گروہ کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ ان کے گروہ سے باہر اگر کوئی خوبی پائی جاتی ہو تو اس کی انھیں کوئی خبر نہ ہوگی۔

مسلمان آج بے شمار گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہر گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ صرف اس عالم کو عالم جانتا ہے جو اس کے اپنے گروہ کا ہو۔ باہر کے عالم کی اسے خبر نہیں۔ ہر گروہ اپنے گروہ کے متقی کو متقی سمجھتا ہے۔ باہر کے متقیوں کی اس کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ وہی مصنف مصنف ہے جو اپنے حلقہ کا ہو۔ اپنے حلقہ سے باہر کی کسی چیز کو وہ اس طرح نظر انداز کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو دکھائی ہی نہیں دیتی۔

خدا کے یہاں اس انسان کی قیمت ہے جس نے حق کو جو ہر کی بنیاد پر پہچانا ہو۔ جو شخص گروہ کی بنیاد پر حق کو پہچاننے کی مہارت دکھائے اس کی قیمت صرف اس کے اپنے گروہ میں ہے، خدا کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page