غلط اقدام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴
غلط اقدام
لیما (Lima) جنوبی امریکہ کا ایک شہر ہے۔ یہاں ایک غریب عورت اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ مقامی طور پر وہ کوئی اچھا روزگار پانے میں ناکام رہی۔ اس نے سنا تھا کہ شمالی امریکہ (USA) بہت خوش حال ملک ہے۔ اس نے حصول معاش کے لئے وہاں جانے کا ارادہ کیا۔ مگر اس کے پاس ہوائی جہاز کا کرایہ نہیں تھا۔ اس نے یہ تد بیر کی کہ اپنے آپ کو ایک سوٹ کیس میں بند کیا اور اس سوٹ کیس کو کسی نہ کسی طرح لیما سے لاس اینجلس جانے والے ہوائی جہاز پر بطور لگیج سوار کرا دیا۔ جہاز لاس اینجلس پہنچا۔ اس کا سامان حسب معمول نکال کر مخصوص مقام پر لایا گیا جہاں ہر آدمی پہچان کر اپنا سامان لے لیتا ہے۔ مگر ایک سوٹ کیس کا کوئی لینے والا نہیں ملا۔ بالآخر پولیس نے اس سوٹ کیس کو کھولا تو اس کے اندر مذکورہ عورت کی لاش بند تھی۔ یوپی آئی کی خبر کا آخری فقرہ یہ تھا: Detectives said the woman may have been crushed by the weight of other luggage. تفتیش کرنے والوں نے کہا کہ عورت غالباً دوسرے سامانوں کے بوجھ کے نیچے کچلی کر مرگئی۔ (ٹائمز آف انڈیا ۱۲ جنوری ۱۹۸۵)
یہ واقعہ زندگی کی ایک حقیقت کو بتاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ منزل تک پہنچنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کسی نہ کسی طرح ایک اقدام کر ڈالے۔ اقدام کی کامیابی کے لئے بہت سے دوسرے اسباب کی موافقت ضروری ہے۔ یہ دوسرے اسباب اگر موافقت کے لئے موجود ہوں تو اقدام کامیاب ہوگا اور اگر دوسرے اسباب موافقت نہ کریں تو اقدام سراسر ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
مذکورہ واقعہ میں عورت کا اقدام ایک انفرادی اقدام تھا۔ اس غلط اقدام کا نتیجہ اسے انفرادی طور پر بھگتنا پڑا۔ مگر ایک لیڈر جب کسی قوم کو اقدام کی طرف لے جاتا ہے تو یہ ایک اجتماعی اقدام ہوتا ہے اس کا انجام پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ لیڈر کو مذکورہ خاتون کے مقابلہ میں کروڑوں گنا زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔ لیڈر کے لئے غلط اقدام صرف غلط اقدام نہیں بلکہ وہ ایسا سنگین جرم ہے جس کے مقابلہ میں کوئی عذر قابل سماعت نہیں ہو سکتا۔
غلط اقدام سے کروروں گنا زیادہ بہتر ہے کہ آدمی کوئی اقدام ہی نہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues