Al-Risala · March 1985 · page 25

بے معنی اچھل کود

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

بے معنی اچھل کود

یوپی کی ایک مسلم خاتون بیوہ ہوگئیں۔ ان کی تین چھوٹی لڑکیاں تھیں۔ ایک لڑکا تھا جو باپ کے انتقال کے وقت نویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ خاتون نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے لڑکے کو انجینئر بتاتے گی۔ اس نے شوہر کاپرائیویٹ فنڈ خرچ کرکے اور خود بارہ بارہ گھنٹے روزانہ سلائی کا کام کرکے اپنے لڑکے کو پڑھانا شروع کیا۔

گھر کے حالات نے لڑکے کے اندر محنت کا جذبہ پیدا کیا۔ ہائی اسکول میں اس کو اے فی صد نمبر ملے۔ انٹرمیڈیٹ میں لڑکے نے ۷۶ فی صد نمبر حاصل کئے۔ اس کے بعد خاتون نے ہمت کرکے اپنے لڑکے کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انجینئرنگ میں داخل کرا دیا۔ یہاں بھی لڑکا انتہائی محنت کے ساتھ پڑھتا رہا۔ انجینئرنگ کے پہلے سال سے لے کر چوتھے سال تک اس نے اس طرح پاس کیا کہ ہر سال اس کو ۸۰ فی صد سے زیادہ نمبر ملتے رہے۔

لڑکے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے خاتون کا یہ منصوبہ بہت مہنگا تھا۔ اس مدت میں گھر کا اثاثہ ختم ہو گیا مکان گروی رکھنا پڑا۔ رات دن سلائی کا کام کرتے کرتے خاتون کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ ۱۹۸۱ اس لڑکے کا فائنل ائیر تھا۔ اگر وقت پر امتحان ہو جاتا تو لڑکا انجینئر بن جاتا۔ اس کی ماں نے اسی دن کی امید میں دس نہایت مشقت کے سال گزار دئے تھے۔ وہ اس امید میں جی رہی تھی کہ میرا لڑکا انجینئر بنے گا۔ پھر وہ کما کر گھر کا خرچ چلائے گا۔ قرضہ ادا کرے گا۔ بہنوں کی شادی کر وائے گا۔ اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ مگر اس سال یونی ورسٹی کے لیڈر لڑکوں نے یونی ورسٹی میں ایسے ہنگامے شروع کئے کہ امتحان ہی نہ ہوسکے۔ خاتون کی دنیا بنتے بنتے اپنے آخری مقام پر پہنچ کر اجڑ گئی (حسب روایت احمد رشید شردانی مطبوعہ الجمعیتہ ۲۳ جون ۱۹۸۱)

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے مسائل کتنے نازک ہوتے ہیں یہاں بے شمار مسائل ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہوتے ہیں کہ ایک کو چھیڑنے میں دوسرا متاثر ہوتا ہے۔ اس لئے اجتماعی معاملات میں پڑنا صرف ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو معاملات کو دور اندیشی کی نگاہ سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو دوسرے کے سینے کا درد اپنے سینہ میں محسوس کریں۔ جن لوگوں کے اندر یہ دونوں صفات نہ ہوں وہ اگر اجتماعی اصلاح کے میدان میں کودتے ہیں تو وہ صرف جرم کرنے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے واحد صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ خاموش رہیں ۔ نہ یہ کہ احمقانہ اقدام کر کے مسائل میں اور اضافہ کرنے کا سبب بن جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page