Al-Risala · March 1985 · page 26

نوجوانوں کے نام

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶

نوجوانوں کے نام

جدید صنعتی دنیا کی ایک اصطلاح ہے جس کو کنجی گھماؤ منصوبہ (Turn-key project) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا مکمل طور پر بنا بنایا گھر یا کارخانہ ہے جس میں آدمی کا کام صرف کنجی گھما دینا ہو۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں جس طرح عمل کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا دنیا کو وہ اپنے لئے اسی قسم کی جگہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال شاید یہ ہے کہ ان کے خدا نے ایک تیار شدہ دنیا ان کے حوالے کر دی ہے اور اب ان کا کام صرف یہ ہے کہ ایک کنجی گھما کر وہ اس کو اپنی مرضی کے موافق چلا دیں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عمل اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیں اول سے آخر تک سارا کام خود کرنا ہے۔ ہمیں دوسروں کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اسباب کی اس دنیا میں ہم کو اپنی مطلوبہ جگہ مل سکے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو سب سے پہلے جو چیز جاننا چاہئے وہ یہ حقیقت ہے کہ وہ تاریخ کے آغاز میں ہیں، تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ اگر وہ جنوری ۱۹۸۵ میں ہو تو دسمبر ۱۹۸۵ کے زمانہ میں پہنچنے کے لئے اس کو بارہ مہینے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ زمین اپنے محور پر ۳۶۰ بار گھومے گی اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارا ایک سال پورا ہو اور ہم تکمیل سال کے مرحلہ میں پہنچ سکیں۔ یہ اس دنیا کی انتہائی معلوم حقیقت ہے۔ مگر اسی معلوم حقیقت کو مسلمان ملت کی تعمیر کے معاملہ میں بالکل بھول جاتے ہیں۔ وہ عملاً پہلے مہینہ میں ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ چھلانگ لگا کر آخری مہینہ میں جا پہنچیں ۔ وہ بنیاد کی تعمیر نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خیالی مکان کی بالائی چھت پر کھڑے ہوئے نظر آئیں۔ واقعہ کے اعتبار سے وہ اپنے سفر کے آغاز میں ہوتے ہیں، اور ایسے انتہائی الفاظ بولتے ہیں گویا کہ وہ درمیانی راستہ طے کئے بغیر اپنی آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں۔

یاد رکھئے، ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم ایک با مقصد قوم تیار کریں۔ ہمیں قوم کے افراد کو وہ تعلیم دینا ہے جس سے وہ ماضی اور حال کو پہچانیں ۔ ان کے اندر وہ شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانیں ۔ ان کے اندر وہ حوصلہ ابھارنا ہے کہ وہ شخصی مفاد اور وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر قربانی دے سکیں۔ یہ سارے کام جب قابل لحاظ حد تک ہو چکے ہوں گے اس کے بعد ہی کوئی ایسا اقدام کیا جا سکتا ہے جو فی الواقع ہمارے لئے کوئی نئی تاریخ پیدا کرنے والا ہو۔ اس سے پہلے اقدام کرنا صرف موت کی خندق میں چھلانگ لگانا ہے نہ کہ زندگی کے چنگستان میں داخل ہونا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page