جھوٹا فخر
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷
جھوٹا فخر
جس قوم کا ایک شاندار ماضی ہے اس کا بگاڑ ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے۔ یہ کہ اس کے اندر وہ نفسیات پیدا ہو جاتی ہے جس کو پدرم سلطان بود کہا جاتا ہے۔ آج ممسلمانوں کا معاملہ یہی ہے۔ سلمان جب دین کو کھودیں تو اس کے بعد ان کے پاس صرف تاریخ باقی رہ جاتی ہے۔ ذاتی طور پر اسلام سے خالی ہونے کے بعد وہ یہ کرتے ہیں کہ گزرے ہوئے بڑے لوگوں کا نام لے کر فخر کرتے ہیں کہ ہم فلاں اور فلاں شخصیتوں سے نسبت رکھتے ہیں۔ ہم ایسے اور ایسے لوگوں کے وارث ہیں۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ خود پیغمبر تک پہنچ جاتا ہے۔ ۔ وہ ان چیزوں کو بھی اپنے فخر کے خانہ میں لکھ لیتے ہیں جن کا تعلق خالصتاً نبوت سے ہے۔ مثال کے طور پر معراج کے واقعہ کے بارہ میں مسلم شاعروں کے یہ اشعار پڑھئے:
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں در دستِ جنون من جبریلِ زبوں صیدے یزداں بکند آور لے ہمت مردانہ پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزلِ سلمان کی تارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہو ان اشعار میں بلند پروازی کا جو مضمون ہے وہ معراج کے واقعہ سے بطورِ تلمیح پیدا کیا گیا ہے۔ یہ توقیع درست نہیں کیوں کہ معراج کے واقعہ کا تعلق پیغمبر سے ہے نہ کہ عام مسلمانوں سے۔ مگر مسلمانوں کی فخر پسندی ان کو یہاں تک لے گئی کہ جو چیز استثنائی طور پر صرف پیغمبر کو دی گئی تھی اس کو" ہمارے پیغمبر " کی منطق سے انھوں نے اپنے خانہ میں ڈال لیا۔ حتیٰ کہ اس معاملہ میں اپنے آپ کو پیغمبر سے بھی آگے بڑھا دیا۔ معراج کا واقعہ پیغمبر کے لئے عبدیت کا ایک تجربہ تھا۔ مگر مسلمانوں کے لئے وہ گردوں کوز میں لینا، خدا پر کمند ڈالنا، ستاروں کو گردِ راہ بنانا بن گیا۔ اسی کا نام جھوٹا فخر ہے اور جھوٹا فخر حقائق کی اس دنیا میں سب سے بڑی ہلاکت ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مرض ہی جھوٹا فخر ہے۔ جھوٹے فخر کی یہ نفسیات کبھی خاندان کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے۔ کبھی قوم اور مذہب کی بنیاد پر اور کبھی پیغمبر کا امتی ہونے کی بنیاد پر۔ مگر فخر کی تمام قسمیں سراسر باطل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی صرف وہ ہے جو وہ خود ہے نہ کہ وہ جو اس کے باپ دادا کبھی تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues