Al-Risala · March 1985 · page 39

آیات قرآن

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹

و الحافظين فروجهم والحافظات والذاكرين عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور اللہ کثيرا والذكرات اعد اللہ لھـم خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور مغفرة واجرا عظيما ( الاحزاب (۳۵) روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں ۔ اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں، ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

اس آیت میں وہ تمام بنیادی صفات بتادی گئی ہیں جو اس مرد یا عورت میں ہونی چاہئیں جو اللہ کے یہاں اس کے مقبول بندوں میں شامل ہونا چاہے۔

اسلام ـــــ پہلی چیز اسلام بتائی گئی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا نفس اللہ کی اطاعت پر راضی ہو جائے ۔ وہ اللہ کے احکام کی پیروی میں اپنی زندگی گزارنے لگے۔

ایمان ـــــ اس سے مراد وہ شعوری یافت ہے جب کہ آدمی خدا کو اپنے خالق اور معبود کی حیثیت سے پالے۔ جب آدمی کا فکر خدا کے فکر میں ڈھل جائے ۔ جب آدمی اس یقین تک پہنچ جائے کہ سب سے بڑی حقیقت وہی ہے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ انسان کے لئے ظاہر کی۔ ہے قنوت ـــــ یعنی مخلصانہ فرماں برداری ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ذہن کی پوری یکسوئی اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس طریقہ کو اختیار کر لیا جائے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ صدق ـــــ اس سے مراد قول اور عمل کی مطابقت ہے۔ یعنی وہی کہنا جو آدمی کرنے والا ہو اور وہی کرنا جو اس نے اپنی زبان سے کہا ہے ۔ لوگوں کے درمیان وہ ایک صاحب کردار انسان کی حیثیت سے زندگی گزارے۔

صبر ـــــ یعنی دین کے احکام پر چلنے کے لئے اگر تکلیفیں اٹھانی پڑیں تب بھی اس سے نہ ہٹنا۔ نفس اور شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی تقاضوں پر قائم رہنا۔ غیر خدائی محرکات کی بنا پر خدائی رشتہ کو نہ چھوڑنا۔

خشوع ـــــ اس کا مفہوم تواضع اور خاکساری ہے۔ یہ کیفیت وہ ہے جو خدا کی بڑائی اور اس کے کامل اختیار کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے اوپر سب سے زیادہ جو چیز چھائی ہوئی ہوتی ہے وہ خدا کا خوف ہے۔ یہ احساس ان کو خدا کے آگے بالکل جھکا دیتا ہے۔ اور دوسرے انسانوں کے سامنے بھی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page