آیات قرآن
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰
ان کو متواضع اور مہربان بنا دیتا ہے۔
صدقہ ــــ یعنی وہ اپنے مال میں سے بندوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ جس طرح اپنی ضرورت کا احساس انہیں اپنے اوپر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے اسی طرح وہ دوسرے حاجت مندوں کی امداد سے بھی بے پروا نہیں ہوتے۔
صوم ــــ یعنی اللہ کے لئے روزہ رکھنا۔ روزہ رکھ کر آدمی اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتا ہے جب کہ وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تجربہ کرے اور پھر اس رزق پر خدا کا شکر ادا کرے جو خدا نے اس کو اپنے پاس سے عطا کیا ہے۔
حفظ فروج ــــ یعنی عفت اور پاک دامنی کا طریقہ اختیار کرنا اور بے حیائی ڈالے اعمال سے بچنا۔ حیا کا فطری پردہ جو خدا نے پیدا کیا ہے، اس کا پورا لحاظ رکھنا۔
د کر اللہ ــــ خدا کو بہت زیادہ یا ذکر نا خدا کی حقیقی دریافت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جو کوئی خدا کو حقیقی طور پر پا لیتا ہے اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر موقع پر اس کو خدا یاد آتا ہے وہ دل اور زبان سے بار بار خدا کو یا دکرنے والا بن جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سورہ التحریم (آیت ۵) میں عورتوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں تین مزید صفتوں کا ذکر ہے: توبہ، عبادت، سیاحت۔
توبہ ــــ توبہ کے معنی ہیں لوٹنا۔ یعنی غلطی کر کے پلٹ آنا۔ یہ مومن اور مومنہ کی نہایت خاص صفت ہے۔ اس دنیا میں ایسے امتحانی اسباب رکھے گئے ہیں کہ آدمی سے بار بار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر یہ ہونا چاہئے کہ نفس کے غلبہ سے آدمی وقتی طور پر غلطی کر جائے۔ اس کے بعد خدا کی پکڑ کا احساس اس پر طاری ہو اور وہ فوراً پلٹ کر خدا سے معافی مانگنے لگے۔ یہ توبہ اپنے مقابلہ میں خدا کی عظمت کا اعتراف ہے۔ وہ اللہ کو بہت پسند ہے۔
عبادت ــــ عبادت سے مراد وہ عمل ہے جو کسی کی فوق الفطری بڑائی کو مان کر اس کے سامنے کیا جائے۔ اس کو پرستش کہتے ہیں۔ اس قسم کی پرستش اللہ کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ مومن اور مومنہ کی عبادت صرف خدا کے لئے ہوتی ہے۔
سیاحت ــــ اس کی بہترین تشریح اس حدیث میں ملتی ہے جو ابو داؤد میں آئی ہے: عن ابی امامہ ان رجلا قال یا رسول الله حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا کہ اے ائذن لي فى السياحة فقال رسول الله صلى الله خدا کے رسول مجھ کو سیاحت (درویشی) کی اجازت دیجئے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues