Al-Risala · March 1985 · page 41

خواتین اسلام کی مثال

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۴۱

علیہ وسلم سیاحة امتى الجھاد فی سبیل آپ نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں اللہ ہے۔

سیاحت سے مراد اللہ کے راستہ کا وہ عمل ہے جس کی خاطر چلنا پھر ناپڑے۔ مثلاً علم دین حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا۔ دین کی خاطر ایک مقام چھوڑ کر دوسرے مقام کو ہجرت کرنا۔ نصیحت کی غرض سے فطرت کے مناظر او پر نارہ سخنی عبرت کے مقامات کو دیکھنے کے لئے جانا۔ اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے دوڑ دھوپ کرنا وغیرہ۔

اور جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ سب وہ ہیں جن کا تعلق کسی خاص صنف سے نہیں، ان کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ یہی چیزیں اسلام کی اصل ہیں اور یہی فلاح و نجات کا ذریعہ ہیں، عورتوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی۔

امام راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے میں سائحون سے وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن کی آیت افلم یسیروا فی الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها واذان يسمعون بھا (الحج ۴۶) کا مصداق ہیں۔

خواتین اسلام کی مثال

تاہم دین کے معاملہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے جس طرح مردوں کے دو درجے ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی دو درجے ہیں۔ ایک عام دوسرا خاص۔

عام درجہ وہ ہے جو ہر خاتون کے لئے ہے۔ یعنی ذاتی معاملہ میں خدا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا۔ خدا کے بارہ میں عقیدہ کی درستگی۔ خدا کے احکام کی بجا آوری۔ زندگی کے معاملات میں انصاف پر قائم رہنا۔ نفسانی محرکات اور شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنا۔ اپنی ذات اور اپنے مال سے خدا کا حق نکالنا۔ ہمیشہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو سامنے رکھنا۔ اپنے گھر اور اپنے متعلقین کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہنا۔ معاملات میں ہمیشہ وہ کرنا جو اسلام کا تقاضا ہے۔

عورت کا دوسرا اہم فرض اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت ہے۔ ہر عورت بالآخر ماں بنتی ہے۔ بچے سے ماں کا اور ماں سے بچے کا بے حد گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے اور بناؤ کا بھی ۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اس تعلق کو صرف بناؤ اور اصلاح کے لئے استعمال کرے۔

تیسری چیز جو ہر عورت کے لئے ضروری ہے وہ یہ کہ اپنے شوہر کے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page