Al-Risala · March 1985 · page 42

خواتین اسلام کی مثال

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲

مسئلہ بنے۔ زندگی میں ’’ا کیا جائے‘‘ سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ’’کیا تر کیا جائے‘‘ اس معاملہ میں عورتوں سے جذباتی ہونے کی بنا پر کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ اور اپنے گھر والوں کے ساتھ غیر ضروری قسم کے مسائل کھڑے کر دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے گھر کا سکون غارت ہو جاتا ہے۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوتے بھی ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے گھر میں کچھ نہیں۔ عورت اگر اتنا کرے کہ وہ گھر کے اندر مسئلہ نہ پیدا کرے تب بھی اس نے بہت بڑا کام کیا۔

اگر عورت کے اندر مزید صلاحیت ہو اور اس کو وسیع تر مواقع حاصل ہوں تو وہ اس کے آگے کا کام بھی کر سکتی ہے جس کو ہم نے خصوصی درجہ کا نام دیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ، حضرت عائشہ نہایت ذہین خاتون تھیں۔ ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بھر پور استفادہ کیا۔ غالباً ان کا حافظہ وہ تھا جس کو موجودہ زمانہ میں عکسی حافظہ (Photographic memory) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کو اچھی طرح یاد رکھا۔ وہ چوں کہ رسول اللہ کے مقابلہ میں بہت کم عمر تھیں، اس لئے آپ کی وفات کے بعد تقریباً ۵۰ سال تک زندہ رہیں۔ وہ امت کے لئے ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر ثابت ہوئیں۔ اور آپ کی وفات کے نصف صدی بعد تک آپ کی باتیں لوگوں کو سناتی رہیں۔ عبداللہ ابن عباس صحابہ کے درمیان بہت بڑے عالم تھے۔ وہ حبر الامتہ کہے جاتے ہیں۔ اور قرآن کی تفسیر میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔ یہ عبد اللہ ابن عباس حضرت عائشہ کے شاگرد تھے۔ انھوں نے علم دین نہ زیادہ نہ حضرت عائشہ سے سیکھا، اسی طرح بہت سے صحابہ و تابعین آپ سے علم دین سیکھتے رہے ______ اس مثال میں ایک اسلامی خاتون علم دین میں مہارت پیدا کر کے لوگوں کی رہنمائی کی کرتی ہوتی نظر آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مہر کی مقدار کم ہوتی تھی۔ بعد کو جب فراخی کا دور آیا تو لوگ مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنے لگے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں ایک بار منبر پر آئے اور تقریر کرتے ہوئے کہ میں نہیں جانتا کہ چار سو درہم مہر پر کس نے زیادتی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ خبردار تم لوگ عورتوں کے مہر میں زیادتی مت کرو۔ جب بھی مجھے معلوم ہو گا کہ کسی نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں اس زیادتی کو ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دوں گا۔

اس کے بعد مجمع سے گوشہ سے ایک عورت اٹھی۔ اس نے کہا کہ اے امیر المومنین، اللہ کی کتاب زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page