Al-Risala · March 1985 · page 25

Prof. Huston Smith

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

کچھ دن پہلے یہ حال تھا کہ بہت سے لوگ ملاقات کے وقت یہ پوچھتے تھے کہ "کیا الرسالہ نکل رہا ہے۔ " مگر اب خدا کے فضل سے الرسالہ ابتدائی مرحلہ سے نکل کر دور استحکام میں داخل ہو گیا ہے۔ اس کے خریدار اور ایجنسی مسلسل ہر جگہ پھیلتے جا رہے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو بیک وقت ایک سو شمارہ سے ایجنسی کا آغاز کر رہے ہیں۔ ۱۰ جنوری ۱۹۸۵ء کو ایک صاحب مرکز میں آئے اور الرسالہ سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ الرسالہ محض ایک ماہنامہ نہیں وہ ایک مشن ہے۔ آپ کو اس مشن میں اپنے آپ کو شامل کرنا چاہئے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ آپ اس کی ایجنسی لیں۔ انھوں نے فوراً ایک سال کی پیشگی رقم جمع کر کے دس شماروں سے ایجنسی شروع کر دی۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو پانچ اور چھ سال کا سالانہ چندہ اکٹھا جمع کر کے الرسالہ اپنے نام جاری کراتے ہیں۔ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ اپنی ساری سنجیدگی کے باوجود عمومی پرچہ بنتا جا رہا ہے۔

۴۔ تذکیر القرآن دو بارہ نئی ترتیب کے ساتھ زیر طبع ہے۔ یہ جلد سورہ فاتحہ سے سورہ بنی اسرائیل تک (پندرہ پاروں) پر مشتمل ہوگی۔ جو لوگ اس سے پہلے دس پاروں کی جلد لے چکے ہیں۔ ان کے لئے دو صورتیں ہیں۔ یا تو وہ مزید پانچ پاروں کے صفحات دفتر سے منگوا کر اپنی جلد مکمل کر لیں۔ یا سابقہ جلد ہمیں واپس کردیں اور جزئی اضافی قیمت ادا کر کے نئی جلد پندرہ پاروں کی حاصل کر لیں۔

۵۔ متعدد مقامات سے ہم کو خطوط اور رپورٹیں ملی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے تذکیر القرآن کو مساجد میں پڑھ کر سنانے کے لئے بہت موزوں پایا ہے۔ ایک مقام سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ انھوں نے شہر کی چار مسجدوں میں تذکیر القرآن پڑھ کر سنانے کا انتظام کیا ہے۔ بعض مساجد میں دن میں کئی بار تذکیر القرآن پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ ایک مقام سے رپورٹ ملی ہے کہ ایک صاحب پچھلے دو سال سے تذکیر القرآن لاؤڈاسپیکر پر پڑھ کر سناتے ہیں۔ شروع شروع میں کچھ لوگوں نے مخالفت کی۔ مگر وہ صبر کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اب اس بستی میں الرسالہ کی باقاعدہ ایجنسی قائم ہو گئی۔ کئی درجن پرچے وہاں ہر ماہ جا رہے ہیں۔ متعدد افراد نے اسلامی مرکز کی کتابوں کا پورا پورا اسٹاک خرید نا اور پڑھنا شروع کر دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page