Al-Risala · April 1985 · page 19

معیاری دنیا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹

معیاری دنیا

آدمی پیدائشی طور پر معیار پسند (Idealist) ہے۔ ہر آدمی ایک معیاری دنیا (Ideal world) کی تلاش میں ہے۔ مگر اس دنیا میں معیاری دنیا کا بننا ممکن نہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو صرف معیاری نظریہ دیا جا سکتا ہے نہ کہ معیاری دنیا۔

معیاری دنیا بننے کی جگہ صرف آخرت ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی حکمت کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بہت سی محدودیتیں (Limitations) ہیں۔ یہ محدودیتیں خود خالق کی طرف سے ہیں اور ان کی موجودگی میں یہاں معیاری دنیا بننا ممکن نہیں۔ اسی کے ساتھ امتحان کی مصلحت کے تحت یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں اگر نیک لوگوں کو عمل کی آزادی ہے تو یہاں برے لوگوں کو بھی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ چنانچہ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ نیک لوگ ایک نقشہ بناتے ہیں اور برے لوگ شرارتیں کرکے اس نقشہ کو توڑ ڈالتے ہیں۔ امتحان کا تصور موجودہ دنیا کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ فلاسفہ اور مفکرین اس کنجی کو نہ پاسکے۔ اس لئے دنیا کو سمجھنے میں بھی وہ ناکام رہے۔ انھوں نے موجودہ دنیا میں اپنی پسند کی دنیا بنانی چاہی۔ مگر"ناقص دنیا" میں "کامل دنیا" نہیں بن سکتی تھی، چنانچہ ان کے حصہ میں ذہنی انتشار کے سوا اور کچھ نہ آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری دنیا نہیں بن سکتی۔ معیاری دنیا بننے کی جگہ آخرت ہے۔ یہاں صرف یہ ممکن ہے کہ لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کیا جائے اور ان کو آخرت پسندی کی زندگی گزارنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اس دعوت کے نتیجہ میں اگر انسانوں کی بہت بڑی تعداد دینِ حق پر آجائے تو ان کے اجتماع سے یقیناً ایک ایسا معاشرہ بن جائے گا جو نسبتاً بہتر معاشرہ ہوگا۔ نیز اگر حالات نے مساعدت کی تو یہ گروہ غیر دینی نظام کے اوپر غلبہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ اور وہ چیز بھی قائم ہو سکتی ہے جس کو دینی حکومت کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ معاشرہ یقینی طور پر "معیاری" معاشرہ ہوگا۔ اور نہ اس کی کوئی ضمانت ہے کہ وہ مستقل طور پر باقی رہے گا۔ یہ ساری چیزیں خدا نے آخرت کی دنیا میں رکھ دی ہیں اور جو چیزیں مالک کائنات نے اگلی دنیا میں رکھ دی ہوں ان کو ہم موجودہ دنیا میں کبھی نہیں پاسکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page