Al-Risala · April 1985 · page 30

تبلیغ کی اندرونی طاقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

ایسی حالت میں بات بالکل دوسری ہو جاتی ہے ۔ اس وقت یہ الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس میں دو اور چیزیں شامل ہو جاتی ہیں ۔ اور وہ ہیں ــ جذبات اور شخصیت ۔ اس وقت وہ ایک ایسی حقیقت ہوتی ہے جس میں درد ، خیر خواہی اور اخلاص کے ساتھ ایک زندہ شخصیت کا پورا وزن بھی شامل رہتا ہے ۔ ایسے کلمات جب وجود میں آتے ہیں تو فضا میں رعشہ پیدا کر دیتے ہیں وہ سوتوں کو بیدار کر دیتے ہیں ۔ کٹّرسے کٹّر طبیعتیں رام ہو جاتی ہیں ۔ غفلت میں پڑے ہوئے چونک اٹھتے ہیں ، فطرت میں چھپی ہوئی عبودیت اس طرح جاگ اٹھتی ہے کہ ساری زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ ایسے ہی کلمات کے لیے کہا گیا ہے ــ از دل خیزد بر دل ریزد ۔

ایک صاحب ایک مرتبہ تبلیغی جلسہ سے واپس آئے تو مولانا نے فرمایا ۔ کہو کچھ اپنی حالت پر افسوس بھی ہوا۔ انہوں نے کہا ” جو کچھ دیکھا اس کے بعد تو اپنے کو مسلمان کہتے ہوئے بھی شرم آنے لگی ہے “ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی ہی میں کام اس ترقی کو پہنچ گیا کہ نومبر ۱۹۳۱ء میں جب میوات میں پہلا بڑا تبلیغی جلسہ ہوا تو ۲۵ ہزار آدمی اس میں شریک ہوئے ۔ ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو ۵۰ - ۵۰۰ میل سے پیدل چل کر وہاں پہنچے تھے ۔ ایک میواتی سے جب پہلی بار آپ نے کہا کہ جاؤ تبلیغ کرو ۔ تو وہ بولا ” تبدیل کیا ہو ہے “ یہی لوگ جو تبلیغ کا صحیح تلفظ بھی نہیں جانتے تھے وہ ایسے مبلغ بنے کہ انہوں نے مبلغوں کی ایک نئی قوم ملک میں پیدا کر دی ۔ اگر کوئی اس وقت مبلغوں کے ان قافلوں کو دیکھے جو بستی بستی اس طرح گھوم رہے ہیں کہ کاندھوں پر کمبل پڑے ہوئے ہیں ۔ بغل میں سیپارے دبے ہوئے ہیں ۔ چادر کے پلو میں چنے یا چند روٹیاں بندھی ہوئی ہیں ۔ زبانیں تسبیح اور ذکر میں مشغول ہیں ۔ آنکھوں میں شب بیداری کے آثار ، پیشانی پر سجدے کے نشانات ، ہاتھ پاؤں سے جفا کشی اور مشقت نمایاں ، تو دیکھنے والوں کو وہ منظر یاد آجاتا جب عرب کے مفلس اور غیر تعلیم یافتہ باشندے اسلام کی دولت کو پا کر سرشار تھے اور قرآن اور احکام دین کی تعلیم کے لیے چاروں طرف چلتے پھرتے نظر آتے تھے ۔

تبلیغ کی اندرونی طاقت

مولانا نے اپنی تبلیغ کے ذریعہ لوگوں کو وہ کیا چیز دی تھی جس نے اتنی بڑی تبدیلی پیدا کر دی ۔ وہ تھا آخرت کا خیال اور نصرت الہی کا یقین ۔ مولانا نے اس حقیقت کو شدت سے لوگوں کے ذہن نشین کیا کہ اس کائنات کا ایک مالک ہے ۔ اور اسی کے پاس لوٹ کر ہمیں جانا ہے ۔ کائنات کا کوئی ذرہ اس کی مرضی کے بغیر ہل نہیں سکتا جو کچھ ہو گا اسی کے کیے۔ سے ہوگا ۔ اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ پر غور کیجیے ۔ مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ایک میواتی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page