تبلیغ کی اندرونی طاقت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱
صحبت یافتہ سے ایک شخص نے پوچھا۔ ”اپنی تبلیغی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے “ میواتی نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنا شروع کیا ”مولانا نے ایک مرتبہ تین آدمیوں کی ایک جماعت مراد آباد بھیجی۔ جس میں سے ایک میں تھا۔ مولانا نے چلتے وقت یہ مختصر سی ہدایت دی کہ اللہ کے نام پر روانہ ہو جاؤ۔ اور جب کوئی مشکل پڑے تو ایسا کرنا کہ بستی کے باہر جا کر تنہائیوں میں نماز پڑھنا اور دعا کرنا کہ خدایا ہماری مشکل حل کر دے ۔ ہم لوگ بستی میں پہنچ کر ایک مسجد میں داخل ہوئے۔ مغرب کی نماز کے بعد اعلان کیا گیا لوگ ٹھہر جائیں ۔ کچھ دین کی باتیں ہوں گی “ مگر جب ہم سنتوں سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ ایک ایک شخص جا چکا ہے ۔ اور مسجد میں ہم تین کے سوا کوئی موجود نہیں ۔ اب ہم بیٹھ کر اگلی شام کا انتظار کرنے لگے۔ دوسرے دن پھر مغرب کی نماز کے بعد یہی اعلان کیا۔ مگر دوسرے دن بھی یہی قصہ پیش آیا کہ نماز کے بعد سارے لوگ مسجد سے اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔ اب ہمیں مولانا کی نصیحت یاد آئی۔ رات گزار کر صبح کو ہم لوگ حسب ہدایت بستی کے باہر چلے گئے اور سارا دن دعا کرتے رہے۔ شام کو آکر پھر اسی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھی اور جس طرح دو دن اعلان کر چکے تھے ، اسی طرح آج بھی اعلان کیا۔ ”نماز سے فارغ ہو کر آپ لوگ ٹھہر جائیں کچھ دین کی باتیں ہوں گی “ اتنا کہہ کر میواتی رک گیا۔ وہ پوچھنے والے کو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے وہ کسی نہایت اہم واقعہ کا انکشاف کرنے جا رہا ہو۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے اپنی خاص زبان میں کہا : ” جیسے دھرتی نے سب کو پکڑ لیا ، ایک بھی نہ اٹھا ، حضرت ! یہ کام تو بس یوں ہی چلے گا “ جن لوگوں کو یہ تجربہ ہوا ، اس تجربے نے انہیں کتنی قیمتی چیز عطا کی۔ اس نے انہیں اس لازوال حقیقت کا رازداں بنایا کہ یہاں ایک ایسا خزانہ بھی پوشیدہ ہے جس کا مالک بننے کے لیے ٹوٹے ہوئے دل اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسی طاقت ہے جو زمین کو ہلا دے اور پہاڑوں کو کھسکا دے۔ یہ نہتوں کو عظیم ترین ہتھیاروں سے مسلح کرتا ہے ، یہ بے علم افراد کو بڑے بڑے مدعیانِ علم سے مقابلہ کرنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔ یہ وہ فیض ہے جس کو پا کر گونگے بولنے لگتے ہیں، اندھے دیکھنے لگتے ہیں اور لنگڑے چلنے لگتے ہیں۔ یہ ہر تالے کی کنجی ہے اور ہر دروازے کو کھولنے والا ہے۔ اس کے ملنے سے وہ سرو سامان ملتا ہے کہ انتہائی انتہائی بے سروسامانی کے باوجود آدمی زندگی کے تمام مراحل کو پار کرتا چلا جائے ۔
اس طرح کے بے شمار تجربے ہیں جن سے تبلیغ کی تاریخ بھری ہوئی ہے اور اس نے تبلیغ کے افراد کو ایک ایسی ذہنی اور نفسیاتی طاقت دی ہے کہ وہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود اقدام کرنے سے نہیں ہچکچاتے سخت ترین ماحول میں گھس کر کام کرنے سے ہراساں نہیں ہوتے۔ وہ دعا کو اپنے لیے عصائے موسیٰ سمجھتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues