پروگرام
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۴۳
بعد ان کے اوپر تبلیغ کی جائے تاکہ وہ خالی الذہن ہو کر دین کی باتیں سنیں اور مختلف ماحول میں جاکر اس کا اثر زائل کرنے کے بجائے مسلسل اس سے اثر لیتے رہیں۔ یہ طریقہ عملی طور پر کافی مفید ثابت ہوا ہے اور اس کے ایسے نتائج نکلے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے قریب سے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
تبلیغ کے لیے نکلنا ، حدیث کے الفاظ میں ، اپنے قدموں کو دین کی راہ میں گرد آلود کرنا ہے ۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو قدم دین کی راہ میں گرد آلود ہوں ، ان کو دوزخ کی آگ کبھی نہ چھوئے گی۔ سرکس میں بعض آدمی یہ کرتب دکھاتے ہیں کہ وہ آگ کے الاؤ میں مجسم کو دپڑتے ہیں اور ان پر آگ کا کچھ اثر نہیں ہوتا ۔ یہ لوگ اپنے جسم پر خاص طرح کی مالش کر لیتے ہیں ۔ اس مالش کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آگ انہیں چھو نہیں سکتی۔ اسی طرح دین کی راہ کی گرد وہ چیز ہے جو دوزخ کی آگ کو بے اثر کر دینے والی ہے جس کے اوپر یہ گرد پڑ گئی وہ گویا دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو گیا ۔
یہ غلط فہمی نہ ہو کہ مولانا الیاس صاحب یا ان کے پیروؤں کے نزدیک تبلیغ کا گشت بذات خود وہ چیز ہے جس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس سے مراد کسی خاص گروہ کا گشت نہیں بلکہ دین کا گشت ہے۔ کسی کا گشت اسی وقت اس حدیث کا مصداق بنے گا جب کہ وہ حقیقتاً دین کا گشت ہو ، اور جتنا زیادہ وہ دین کے لیے ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کا مصداق ہوگا اور دین سے اس کا تعلق جتنا کم ہوگا اتنا ہی اس کا مصداق ہونا مشتبہ ہوتا چلا جائے گا۔ کسی خاص گروہ سے نسبت اس کو حدیث کا مصداق نہیں بنا سکتی۔
مولانا الیاس صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا :
" ہمارے طریقی کار میں دین کے واسطے جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک ماحول میں آجاتا ہے۔ جس میں اس کے دینی جذبات کے نشو و نما کا بہت کچھ سامان ہوتا ہے ۔ نیز اس سفر و ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذلتیں اللہ کے لئے برداشت کرنی ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ کی رحمت خاص طور سے متوجہ ہو جاتی ہے " وسیع تصور مولانا الیاس صاحب نے اپنے زمانہ میں تبلیغ کا کام جس ڈھنگ سے چلایا تھا، اس کے متعلق
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues