Al-Risala · April 1985 · page 44

پروگرام

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

مولانا فرماتے تھے کہ ـــــ " یہ تبلیغ کی الف ب ہے " اس کا مطلب یہ میں ہے کہ الف ب کوئی اور چیز ہوتی ہے اور د۔ ہ۔ ی کوئی دوسری چیز۔ حقیقت یہ ہے کہ جو الف۔ ب ہے وہی د۔ ہ۔ ی بھی ہے۔ مگر جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر پر ہوتی ہیں اور جو لوگ حقائق کا ان کی گہرائیوں کے ساتھ مشاہدہ نہیں کرسکتے، ان کو بتانا پڑتا ہے کہ قطرہ کس طرح پھیل کر بحر بیکراں بنتا ہے۔ قطرہ ہی کا دوسرا نام بحر بیکراں بھی ہے۔ مگر عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قطرہ کوئی دوسری چیز ہے اور بحر بے کراں کوئی اور چیز۔ مولانا الیاس صاحب کے اس قول کو اس مثال کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے جیسے کوئی ڈرائیور اسٹیم تیار کر رہا ہو۔ اور وہ کہے کہ یہ تو میرے کام کی الف ب ہے۔ اسٹیم تیار کرنا ایک لحاظ سے کام کی الف ہے اور ایک لحاظ سے وہی سارا کام ہے۔ کیونکہ اسٹیم کے بغیر نہ انجن چل سکتا ہے اور نہ گاڑی حرکت میں آسکتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ اسٹیم کے بغیر کوئی انجن اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا بلکہ اس کے بغیر دو قدم چلنا بھی اس کے لیے ناممکن ہے۔

کام کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ پہلے ہی دن از اول تا آخر کام کا پورا خاکہ بنا لیا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس اصل بنیاد کو پکڑ لیا جائے جو دوسرے تمام اجزاء کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ پہلا طریقہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا ہے اور دوسرا تحریک کا ۔ پارلیمنٹ کا اصول اگر تحریک کے لیے اختیار کیا جائے تو اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کے ساتھ اسی اصول کے تحت معاملہ کیا کہ آغازِ نبوت میں دین کی صرف بنیادی باتوں کی تعلیم دی گئی اور لمبی مدت تک اسی پر سارا زور دیا جاتا رہا۔ اس کے بعد جیسے جیسے حالات آگے بڑھتے گئے، بقیہ چیزیں نازل کی جاتی رہیں ۔

اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اصل اساس مضبوط ہو جاتی ہے ۔ اور اساس کی مضبوطی کے بغیر کوئی بھی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی عقیدہ کی رو سے ہر کام کی توفیق خدا ہی سے ملتی ہے ۔ ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ، ان پر عمل کرنے نہیں آدمی اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب اس کے ساتھ خدا کی توفیق بھی شامل حال ہو جائے ۔

مولانا الیاس صاحب نے ایک مرتبہ اس سوال پر کلام کرتے ہوئے کہ " مسلمانوں کو حکومت و اقتدار کیوں نہیں بخشا جاتا " فرمایا :

" اللہ کے احکام اور اوامر و نواہی کی حفاظت و رعایت ، نہ کہ تم اپنی ذات اور اپنی منزلی زندگی میں نہیں کر رہے ہو (جس پر تمہیں اختیار حاصل ہے اور کوئی مجبوری نہیں ہے )

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page