پروگرام
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵
تو دنیا کا نظم و نسق کیسے تمہارے حوالے کر دیا جائے۔ ایمان والوں کو حکومت ارضی دینے سے تو منشاء الہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی مرضیات اور اس احکام کو دنیا میں نافذ کریں تو تم جب اپنے حدود اختیار میں آج یہ نہیں کر رہے ہو تو دنیا کی حکومت تمہارے سپرد کر کے کل کے لیے تم سے اس کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔ “ تبلیغ میں قلم ایک نیاز مند سے (جن کو مولانا کے تبلیغی کام سے بھی تعلق تھا اور اس کے علاوہ تحریر و تصنیف ان کا خاص مشغلہ تھا) ایک دن مولانا نے فرمایا۔ " میں اب تک اس کو پسند نہیں کرتا تھا کہ اس تبلیغی کام کے سلسلے میں کچھ زیادہ لکھا پڑھا جائے اور تحریر کے ذریعہ اس کی دعوت دی جائے۔ بلکہ میں اس کو منع کرتا رہا۔ لیکن اب میں کہتا ہوں کہ لکھا جائے اور تم بھی خوب لکھو۔ مگر یہاں کے فلاں فلاں کام کرنے والوں کو میری یہ بات پہنچا کر ان کی رائے بھی لے لو۔ چنانچہ ان نامزد حضرات کو مولانا کی بات پہنچا کر مشورہ طلب کیا گیا۔ ان صاحبان نے اپنی رائے کے یہ ظاہر کی کہ اس بارے میں اب تک جو طرز عمل رہا ہے، وہی اب بھی رہے ۔ ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے۔
اس کے بعد مولانا کو یہ بات پہنچائی گئی۔ مولانا نے دوبارہ فرمایا۔ " ہم پہلے بالکل کسمپرسی کی حالت میں تھے۔ کوئی ہماری بات سنتا نہیں تھا۔ اور کسی کی سمجھ میں ہماری بات آتی نہیں تھی۔ اس وقت یہی ضروری تھا کہ ہم خود ہی چل پھر لوگوں میں پہلے طلب پیدا کریں۔ اور عمل سے اپنی بات سمجھائیں۔ اس وقت اگر تحریر کے ذریعے عام دعوت دی جاتی تو لوگ کچھ کا کچھ سمجھتے۔ اور اپنے سمجھنے کے مطابق ہی رائے قائم کرتے اور اگر بات کچھ دل کو لگتی تو اپنی سمجھ کے مطابق کچھ سیدھی کچھ الٹی اس کی عملی تشکیل کرتے اور پھر جب نتائج غلط نکلتے تو ہماری ایکم کو ناقص کہتے۔ اس لیے ہم یہ بہتر نہیں سمجھتے تھے کہ لوگوں کے پاس تحریر کے ذریعہ ہماری دعوت پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہماری بہت سی جماعتیں ملک کے اطراف میں نکل کر کام کا طریقہ دکھلا چکی ہیں۔ اور اب لوگ ہمارے کام کے طالب بن کر خود ہمارے پاس آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اتنے آدمی دے دیئے ہیں کہ اگر مختلف اطراف میں طلب پیدا ہو اور کام سکھانے کے لیے جماعتوں کی ضرورت ہو تو جماعتیں بھیجی جاسکتی ہیں۔ تو اب ان حالات میں بھی کس پرسی والے ابتدائی زمانہ ہی کے طریقہ کار کے ہر ہر جز پر جمے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ تحریر کے ذریعے بھی دعوت دینی چاہیے“۔ بعض مواقع پر مولانا نے اس کا بھی اظہار فرمایا کہ اس وقت جس قسم کے کارکن ہمارے گرد جمع ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues