بائبل کی زبان سے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۶
بائبل کی زبان سے
رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ درخت کاٹ ڈالو اور یروشلم کے مقابل دمدمہ باندھو۔ یہ شہر سزا کا سزا وار ہے۔ اس میں ظلم ہی ظلم ہے۔ جس طرح پانی چشمہ سے پھوٹ نکلتا ہے اسی طرح شرارت اس سے جاری ہے۔ ظلم اور ستم کی صدا اس میں سنی جاتی ہے۔ اے یروشلم تربیت پذیر ہو، تا نہ ہو کہ میرا دل تجھ سے ہٹ جائے۔ نہ ہو کہ میں تجھے ویران اور غیر آباد زمین بنادوں۔ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ ، ان کے کان نامختون ہیں۔ اور وہ سن نہیں سکتے۔ دیکھ خدا وند کا کلام ان کے لئے حقارت کا باعث ہے۔ وہ اس سے خوش نہیں ہوتے۔ اس لئے میں خداوند کے قہر سے لبریز ہوں۔ ان کے گھر کھیتوں اور بیویوں سمیت اوروں کے ہو جائیں گے کیونکہ خدا وند فرماتا ہے میں اپنا ہاتھ اس ملک کے باشندوں پر بڑھاؤں گا۔ اس لئے کہ چھوٹوں سے بڑوں تک سب کے سب لالچی ہیں۔ اور نبی سے کا ہن تک ہر ایک دغا باز ہے۔ کیوں کہ وہ میرے لوگوں کے زخم کو یوں ہی سلامتی سلامتی کہہ کر اچھا کرتے ہیں۔ حالاں کہ سلامتی نہیں ہے۔
خداوند یوں فرماتا ہے کہ راستوں پر کھڑے ہو اور دیکھو اور پرانے راستوں کی بابت پوچھو کہ اچھی راہ کہاں ہے۔ اسی پر چلو اور تمہاری جان راحت پائے گی۔ پر انھوں نے کہا کہ ہم اس پر نہ چلیں گے ۔
اس سے کیا فائدہ کہ سبا سے لوبان اور دور کے ملک سے اگر میرے حضور لاتے ہیں۔ تمہاری سوختنی قربانیاں مجھے پسند نہیں۔ اور تمہارے ذبیحوں سے مجھے خوشی نہیں۔ اس لئے خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ٹھوکر کھلانے والی چیزیں ان لوگوں کی راہ میں رکھ دوں گا۔ اور باپ اور بیٹے باہم ان سے ٹھوکر کھائیں گے۔ ہمسایہ اور ان کے دوست ہلاک ہوں گے۔ میدان میں نہ نکلنا اور سڑک پر نہ جانا ، کیوں کہ ہر طرف دشمن کی تلوار کا خوف ہے۔
وہ سب کے سب نہایت سرکش ہیں۔ وہ غیبت کرتے ہیں۔ وہ تو تانبہ اور لوہا ہیں۔ وہ سب کے سب معاملہ کے کھوٹے ہیں۔ دھونکنی جل گئی۔ سیسہ آگ سے بھسم ہو گیا۔
وہ مرد و د چاندی کہلائیں گے، کیوں کہ خداوند نے ان کو رد کر دیا ہے۔
(یرمیاہ ، باب ۶)