بتائے بغیر
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۷
بتائے بغیر
ایک انگریزی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ پڑھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے :
When Sir Charles Napier conquered Sind in 1843, his victory message to the Governor-General, Lord Dalhousie, read “Peccavi” which in Latin means, “I have sinned.” انگریز جنرل سر چارلس نیپر نے جب ۱۸۴۳ء میں سندھ کو فتح کیا تو اس نے اس وقت کے ہندوستانی گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کو فتح کا پیغام ان لفظوں میں بھیجا" پیکاوی" یہ لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں" میں نے گناہ کیا"
بظاہر یہ بڑا عجیب پیغام تھا۔ فوجی افسر اور گورنر جنرل میں پہلے سے ایسی کوئی قرار داد نہیں ہوئی تھی جس کے مطابق وہ اس کا مطلب جان لیتا۔ اس کے باوجود گورنر جنرل اس کو سمجھ گیا۔ اس نے پیکاوی کا انگریزی ترجمہ کاغذ پر لکھا تو وہ اس طرح تھا I have sinned اس کو دیکھ کر وہ فوراً سمجھ گیا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ میں نے سندھ کو سر کر لیا۔
نازک اور بڑے معاملات میں عہد بر آ ہونے کے لئے ہمیشہ ایسے ہی ذہین اور دور رس افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی ایسے لوگ جو اشاروں کے ذریعے تفصیل کو سمجھ لیں ۔ جو نہ کہی ہوئی بات کو کہی ہوئی بات کی طرح جان لیں ۔ جو اس بات کو پڑھ لیں جو سطروں میں لکھی ہوئی موجود نہیں ہے۔ اور نہ کبھی موجود ہو سکتی۔
زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ ہر بات پیشگی بتائی نہیں جا سکتی۔ بہت سی باتوں کو بتائے بغیر جاننا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو وہی کوئی قابلِ ذکر کام کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس صلاحیت سے محروم ہوں وہ صرف نادانیاں کریں گے اور اس کے بعد شکایتیوں کا دفتر لے کر بیٹھ جائیں گے۔
دنیا میں سب سے زیادہ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کو ایسے ساتھی مل جائیں جو چپ کی زبان جانتے ہوں۔ جو بولے بغیر سنیں اور لکھے بغیر پڑھیں۔ جو سطروں سے گزر کر بین السطور میں چھپی ہوئی باتوں کو جان لیں۔