دو قسم کے لیڈر
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۹
دو قسم کے لیڈر
ہندوستان کے مشہور قانون داں مسٹر نانی پالکی والا نے لکھا ہے کہ ہندوستان کی مصیبت یہ ہے کہ یہاں سیاسی لیڈروں کی بھر مار ہے ۔ اور سیاسی مدبرین کی کمی :
The bane of India is the plethora of politicians and the paucity of statesmen. Nani Palkhivala in WE THE PEOPLE سیاسی لیڈر (پالیٹیشین) اور سیاسی مدبر (اسٹیٹمین) میں کیا فرق ہے ، اس کا جواب ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ مسٹر وینکٹارمن نے حسب ذیل الفاظ میں دیا ہے : A politician thinks of the next election while a statesman thinks of the next generation. یعنی ایک سیاسی لیڈر اگلے الیکشن کے بارہ میں سوچتا ہے جبکہ ایک سیاسی مدبر اگلی نسل کے بارہ میں سوچتا ہے (ٹائمز آف انڈیا ، ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء ) اس بات کو دوسرے لفظوں میں کہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ رہنما دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک سچا رہنما دوسرا جھوٹا رہنما ۔ سچا رہنما قوم کے مفاد میں سوچتا ہے اور جھوٹا رہنما اپنی قیادت کے مفاد میں ۔ سچے رہنما کو قوم کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے ۔ اور جھوٹے رہنما کو اپنے ذاتی مستقبل کی ۔
جھوٹا رہنما ایک روایت کو توڑ کر کامیابی حاصل کر سکتا ہو تو وہ کسی ہچکچاہٹ کے بغیر روایت کو توڑ ڈالے گا اور پھر ذاتی کامیابی حاصل کر کے خوشی کا جشن منائے گا ، مگر سچا رہنما ایسے موقع پر رک جائے گا ، وہ سوچے گا کہ ایک روایت کو توڑنا بہت آسان ہے مگر دوبارہ ایک مفید روایت قائم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ روایت کو باقی رکھا جائے خواہ اس کی وجہ سے ذاتی نقصان اٹھانا پڑے۔ جھوٹا رہنما اگر دیکھے گا کہ ایک جذباتی نعرہ لگا کر وہ کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ فوراً اپنی کامیابی کے لئے جذباتی نعرہ لگا دے گا ۔ مگر سچا رہنما ایسے موقع پر رک جائے گا ، وہ سوچے گا کہ جذباتی نعرہ لگانا دوسرے لفظوں میں قوم کو جذباتی راہوں پر دوڑانا ہے ۔ اس لئے قوم کو جذباتی خندق میں گرانے سے بہتر ہے کہ اپنے لئے سیاسی موت کو برداشت کر لیا جائے ۔ لیڈر کی موت میں قوم کی زندگی ہے۔ خوش قسمت ہے وہ قوم جس کو ایسے باحوصلہ لیڈر مل جائیں۔