Al-Risala · May 1985 · page 10

دو قسم کے لیڈر

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰

غلط فہمی

مفسر ان کثیر نے سورہ بنی اسرائیل کی آخری آیتوں کے ذیل میں ایک روایت ابن الفاظ میں نقل کی ہے :

ان رجلاً من المشرکین سمع النبی صلیٰ مشرکین میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم وهو یقول فى سجوده : یا علیہ وسلم کو سنا ۔ آپ سجدہ میں کہہ رہے تھے کہ اے رحمٰن رحمن یا رحیم فقال انہ یزعم انہ یدعو اسے رحیم ۔ مشرک نے یہ سن کر کہا کہ یہ شخص سمجھتا ہے کہ واحداً وهو یدعوا اثنین وہ ایک خدا کی دعوت دینے والا ہے حالانکہ وہ دو خداؤں پکار رہا ہے۔

یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح بہت سی شکایتیں اور اعتراضات محض آدمی کی اپنی کم فہمی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خدا کو اس کی کئی صفتوں کے ساتھ پکار رہے تھے کیونکہ خدا اگر چہ ایک ہے مگر اس کی صفتیں بے شمار ہیں۔ مگر مذکورہ اعرابی نے صفات میں تعدد کو وجود میں تعدد کے ہم معنی سمجھ لیا اور اس طرح ایک موحد انسان کے بارہ میں غلط طور پر یہ رائے قائم کرلی کہ وہ بھی اسی کی طرح مشرک ہے۔

انسان ایک بے حد پیچیدہ مخلوق ہے اس کی زندگی کے لاتعداد پہلو ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے بارہ میں رائے قائم کرنا بے حد دشوار کام ہوتا ہے ۔ اس میں ۵۰ فی صد سے زیادہ غلط فہمی کا امکان ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ دوسرے شخص کے بارہ میں رائے قائم کرنے میں وہ نہایت محتاط ہو۔ خوش گمانی قائم کرنے میں آدمی اگر غیر محتاط ہو تو کوئی حرج نہیں، مگر بدگمانی قائم کرنا ہو تو آدمی کے لئے لازم ہے کہ وہ بے حد سنجیدہ ہو، وہ آخری حد تک احتیاط سے کام لے۔

ہر آدمی کو جاننا چاہئے کہ وہ جو کچھ رائے قائم کرتا ہے اپنی معلومات کے دائرہ میں کرتا ہے۔ اب چونکہ حقائق کا دائرہ کسی شخص کی ذاتی معلومات سے بہت زیادہ وسیع ہے ، اس لئے ہر وقت یہ امکان ہے کہ اپنی معلومات کے دائرہ میں وہ ایک رائے کو صحیح سمجھ لے۔ حالانکہ وسیع تر حقائق کے اعتبار سے اس کی رائے صحیح نہ ہو ۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ جب دوسرے کے بارہ میں رائے قائم کرنا ہو تو خوش گمانی کے معاملہ میں وہ حد درجہ فیاض بن جائے اور بدگمانی کے معاملہ میں حد درجہ بخیل۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی خدا کے خوف کا تقاضا بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page