Al-Risala · May 1985 · page 11

قدردانی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱

قدردانی

يحكى في كتب السير والتاريخ ان ابا موسى الاشعري عاقب جنديا في جيش العراق فحلق شعر راسه فجمع الجندى الشعر وسافر به من العراق الى المدينة بالحجاز ودخل على امير المومنين عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقذف بالشعر امامه وقال في غضب هكذا يعاملنا رجالـك فتهلل وجه عمر وقال : لان يكون الناس كلهم في مثل شجاعة هذا احب الى من كل ما فتحنا من بلاد ( ابن خلدون )

سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے عراق کی فوج میں ایک مسلمان سپاہی کو تنبیہہ کی اور اس کے سر کا بال منڈادیا۔ سپاہی نے بال جمع کئے اور اس کو لے کر عراق سے مدینہ آیا۔ وہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچا۔ اس نے اپنے بال ان کے آگے ڈال دئے اور غصہ سے کہا کہ تمہارے آدمی ہمارے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرتے ہیں۔ حضرت عمر کا چہرہ چمک اٹھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر تمام لوگ بہادری میں اس آدمی کی طرح ہو جائیں تو یہ مجھ کو تمام ملکوں سے زیادہ محبوب ہے جو ہم نے فتح کئے ہیں۔

مذکورہ فوجی آدمی کے عمل کا ایک رخ یہ تھا کہ اس نے خلیفہ وقت پر تنقید کی۔ وہ تنقید میں بد تمیزی کی حد تک پہنچ گیا۔ اس کا دوسرا رخ یہ تھا کہ اس نے حد درجہ بہادری اور جرأت کا ثبوت دیا۔ حضرت عمر نے پہلے رخ کو نظر انداز کر دیا۔ اور دوسرے رخ کی بنا پر اس کی تعریف کی۔ مذکورہ فوجی کی بات سن کر اگر حضرت عمر کو غصہ آ جاتا تو وہ اس کو سزا دیتے ۔ اس کو گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیتے ۔ یا کم از کم اس کو معتوب کر کے دور بھگا دیتے ۔ ایسی صورت میں وہ اپنے دل کی تسکین تو ضرور حاصل کرتے مگر یہ شخصی تسکین اس قیمت پر ہوتی کہ وہ ایک ایسے بہادر شخص کو کھو دیتے جو اسلام کے محاذ پر زبردست کام انجام دینے والا تھا۔ ایک جاندار آدمی تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے ۔ مگر جاندار آدمی ہمیشہ جری ہوتا ہے۔ وہ خوشامدانہ باتیں کرنا نہیں جانتا۔ جاندار آدمی کو اپنا ساتھی وہی شخص بنا سکتا ہے جو اس کی تنقیدوں اور اس کی جرأت مندانہ باتوں کے باوجود اس کی قدر کر سکے۔ جو اس کو اس کے اندر کے لحاظ سے دیکھنے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page