Al-Risala · May 1985 · page 12

تین قسم

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲

تین قسم

مستدرک حاکم (کتاب الجہاد) میں حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت حسب ذیل الفاظ میں آئی ہے:

کل شئ من لهو الدنيا باطل الا دنیا کا ہر کھیل باطل ہے سوا تین چیزوں کے۔ تمہارا ثلاثة انتضالك بقوسك وتأديبك تیر کمان سے کھیلنا۔ اور تمہارا اپنے گھوڑے کو سدھانا لفرسك وملاعبتك لاهلك فانهن اور تمہارا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرنا۔ یہ تین من الحق ۔ کھیل ہیں جو درست ہیں۔

یہ اور اس طرح کی دوسری حدیثوں کو جو لوگ مطلق معنوں میں لے لیتے ہیں وہ ان کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور مختلف قسم کی غلطیاں کرتے ہیں۔ مثلاً ایک گروہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مذکورہ تین چیزوں کے سوا ہر کھیل شریعت میں ممنوع ہے۔ حتیٰ کہ ہاکی اور فٹ بال کھیلنا بھی شیطانی فعل ہے۔ دوسرا گروہ جس کو یہ نا قابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ خدا مذکورہ تین چیزوں کے سوا ہر کھیل کو قابل ترک قرار دے وہ جھنجھلا کر خود حدیث ہی کو ترک کر دیتے ہیں۔ وہ کہہ دیتے ہیں حدیث میں پیغمبر کے اقوال صحیح طور پر نقل نہیں ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم قرآن کو مانیں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی حدیثیں مطلق معنوں میں نہیں ہوتیں ۔ وہ کسی مخصوص صورت حال میں دین کی روح کو بتانے کے لئے ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ مذکورہ حدیث میں تین کھیل سے مراد تین قسم کے کھیل ہیں۔ وہ حقیقتہ کھیل کی نوعیت کو بتاتے ہیں نہ کہ کھیل کی صورت کو۔ مفہوم کے اعتبار سے اگر اس حدیث کی تشریح کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ ۔ دنیا کا ہر کھیل باطل ہے الا یہ کہ وہ با مقصد کھیل ہو۔ مثلاً مقابلہ کی تیاری والا کھیل جیسے کہ قدیم زمانہ میں تیر کمان تھا۔ گھوڑا دوڑانا جس میں جسمانی ورزش بھی ہے اور گھوڑے کو سواری کے لئے تیار کرنا بھی۔ اسی طرح بیوی سے تفریح جو در اصل نا جائز تفریح سے اپنے کو بچانے کا ذریعہ ہے۔

مذکورہ حدیث کو "تین کھیل" کے مفہوم میں لیا جائے تو وہ عجیب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کو "تین قسم کے کھیل" کے مفہوم میں لیں تو وہ نہایت با معنی معلوم ہونے لگتی ہے۔ ایک چیز ظاہر میں کچھ نظر آتی ہے لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو وہ کچھ اور بن جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page