Al-Risala · May 1985 · page 13

فطری سادگی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳

فطری سادگی

صحیح روایات کے مطابق نبوت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک حج ادا کیا۔ یہ وہی حج ہے جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ یہ حج آپ نے اپنی وفات سے چند ماہ پہلے ۹ھ میں ادا فرمایا۔

حجۃ الوداع کے بارے میں بہت تفصیلی روایات آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ طواف کے بعد آپ نے صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان سعی کی۔ اس سعی کا آغاز آپ نے صفا سے کیا۔ اس وقت آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا : ان الصفا والمروة من شعائر - ابدء اللّٰه بما بدأ به الله (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع فرمایا) اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں جہاں صفا اور مروہ کا لفظ ہے وہاں جملہ میں صفا کا لفظ پہلے ہے اور مروہ کا لفظ اس کے بعد ۔ اسی ترتیب کو آپ نے سعی میں بھی اختیار کیا۔ یعنی قرآن کی آیت چوں کہ صفا سے شروع ہوتی تھی اس لئے آپ نے بھی اپنی سعی صفا سے شروع فرمائی۔ صفاسے چل کر آپ مروہ کی طرف گئے۔

یہ بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سادگی کو پسند کرتا ہے۔ اگر آپ مروہ سے اپنی سعی کا آغاز کرتے تو آدمی کو غیر ضروری طور پر صفا اور مروہ کے بارہ میں دو ترتیب یاد رکھنی پڑتی ۔ ایک قرآن کی آیت میں ان الفاظ کی ترتیب، دوسری حج کی سعی میں ان کی ترتیب ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جگہ ایک ہی ترتیب جاری کرکے لوگوں کو غیر ضروری تکلف سے بچالیا۔

یہ اسلام کی ایک روح ہے جس کو ہمیں ہر معاملہ میں پیش نظر رکھنا چاہئے۔

اسلام ایک سادہ مذہب ہے۔ وہ ہر قسم کی پیچیدگیوں اور غیر ضروری تکلفات سے پاک ہے۔ اسلام میں روح پر زور دیا گیا ہے اور ظواہر کو ثانوی درجہ میں رکھا گیا ہے ۔ اسلام میں اساسی باتوں اور جزئی باتوں میں فرق کیا گیا ہے، اساسی باتوں کو اساسی اہمیت دی گئی ہے اور ضمنی باتوں کو ضمنی اہمیت۔ اسلام کو سادہ حقیقتوں پر قائم کیا گیا ہے نہ کہ عقلی بحثوں اور منطقی موشگافیوں پر ۔ اسلام کو اختیار کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا ہوا اور پانی کو اختیار کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page