Al-Risala · May 1985 · page 14

ظاہر اور باطن

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴

ظاہر اور باطن

قال الشعبی کنت جالساً عند شريح القاضی۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ میں قاضی شریح کے پاس بیٹھا ہوا اذ دخلت امرأة تبکى وتشتکى زوجها تھا کہ ایک عورت آئی جو کہ رو رہی تھی اور اپنے وهو غائب وتأثرت لبکائها وقلت للقاضی شوہر کی شکایت کر رہی تھی اور شوہر وہاں موجود نہ اصلحك الله ما اراها الا مظلومة مأخوذا تھا۔ میں اس کے رونے سے متاثر ہو گیا اور قاضی حقها۔ فقال وما علمت۔ قلت لشدة بکائها شریح سے کہا کہ اللہ آپ کی مدد کرے، میرا خیال وكثرة دموعها۔ قال لا تحكم الا بعد ان تتبين ہے کہ یہ ضرور مظلوم ہے اور اس کا حق چھیناگیا الامر۔ فان اخوة يوسف جاء وا اباهم ہے۔ قاضی شریح نے کہا کہ آپ نے کیسے جانا۔ میں عشاء يبکون وهم له ظالمون۔ نے کہا کہ اس کے رونے کی شدت اور اس کے آنسوؤں کی کثرت کی وجہ سے۔ قاضی شریح نے کہا کہ کوئی حکم نہ لگاؤ جب تک معاملہ واضح نہ ہوجائے کیوں کہ قرآن میں ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے حالانکہ وہ خود ظالم تھے۔

بے شمار تجربات بتاتے ہیں کہ ظاہر پر باطن کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ظاہر میں خوش اخلاق دکھائی دیتا ہے مگر جب کوئی حقیقی معاملہ پڑتا ہے تو وہ اخلاق سے خالی ثابت ہوتا ہے۔ ایک شخص ظاہری طور پر درست معلوم ہوتا ہے لیکن گہرائی میں جاکر تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ درست آدمی نہ تھا۔

ظاہر و باطن کا یہ فرق یہاں تک جاسکتا ہے کہ آدمی کی آنکھیں روئیں حالاں کہ اس کا دل نہ رو رہا ہو۔ وہ زبان سے ہمدردی کے کلمات کہے حالاں کہ اس کے سینہ میں ہمدردی کا کوئی شائبہ موجود نہ ہو۔ وہ بظاہر ہر ایک اچھا آدمی دکھائی دے حالاں کہ اندر سے وہ ایک برا آدمی ہو۔ وہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو مظلوم بتائے حالاں کہ خدا کی نظر میں وہ خود سب سے بڑا ظالم ہو۔ عقلمند وہ ہے جو آدمی کو اس کے اندر سے دیکھ سکے نہ کہ صرف اس کے ظاہر سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page