اپنی پہچان
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵
اپنی پہچان
ہر انسان خدا کی ایک منصوبہ بندی ہے۔ ہر انسان کی پیدائش انسان اور اس کے خدا کے درمیان ایک خاموش عہد ہے۔ اسی عہد میں انسان کی ساری قیمت چھپی ہوئی ہے۔ ہر انسان کو خدا نے کچھ خاص صلاحیتیں دی ہیں اور ہر آدمی نے خاموش زبان میں یہ اقرار کیا ہے کہ وہ دنیا میں اس خاص کام کو انجام دے گا جس کے لئے اس کے خدا نے اس کو پیدا کیا تھا۔ اور جس کے مطابق اسے خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جو انسان ایسا کرے اس نے گویا خدا کے نقشہ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کی ۔ جو شخص ایسا نہ کرے وہ خدا کے نقشہ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
اس بات کو یہاں اصحاب رسول کی مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔
صحابہ کرام میں ایک حضرت ابو ہریرہ تھے اور دوسرے خالد بن الولید۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد ۵۳۷۴ تک شمار کی گئی ہے۔ جب کہ حضرت خالد کی روایات کی تعداد ایک سو سے بھی کم ہے۔ یہ فرق بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس فرق کی وجہ خدمت اسلام کے میدان کا فرق تھا نہ کہ خود اسلام کا۔
حضرت ابو ہریرہ بھی ایک مخلص مسلمان تھے اور حضرت خالد بھی ایک مخلص مسلمان ۔ مگر فطری صلاحیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان فرق تھا۔ انہوں نے کامل شعور کے ساتھ اس فرق کو پہچانا اور اس پر عمل کیا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے اپنے لئے خدمت اسلام کا ایک میدان منتخب کر لیا اور حضرت خالد نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے دوسرا میدان۔
حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں جب بھی رسول اللہ صلی اللہ کے خلاف کسی مہم میں نکلتا تو ہمیشہ یہ احساس لے کر واپس آتا کہ میں اپنے آپ کو وہ ہاں لگاتے ہوئے ہوں جہاں مجھ کو نہیں لگانا چاہئے (لغی موضع فی غیر شئی) ، یہ احساس انھیں ستاتا رہا یہاں تک کہ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے مدینہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔
حضرت خالد فطری طور پر انتہائی بہادر آدمی تھے۔ انھوں نے اپنی اس خصوصیت کو جانا اور اس کے موقع استعمال کا ادراک کیا۔ انھوں نے شعوری طور پر اس کو دریافت کیا کہ اسلامی خدمت