اپنی پہچان
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶
کے وسیع میدان میں وہ کیا خاص حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خدا داد بہادرانہ صلاحیت کو شرک کے استیصال اور توحید کے قیام کے محاذ پر لگا دیں ۔ چنانچہ وہ اسلامی فوج میں شامل ہوگئے۔
وہ ساری عمر اسی راہ میں سرگرم عمل رہے۔ وہ خدا سے اپنے لئے قوت اور استقامت کی دعا کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی درخواست کرتے کہ وہ آپ کے لئے اس کی دعا فرمائیں۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی اسلامی جہاد میں صرف کر دی ۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جس کو خدا نے مشرکین کے خلاف نکالا ہے (سیف من سيوف الله سلّه الله على المشركين)
دوسری مثال حضرت ابو ہریرہ کی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کے اندر حضرت خالد والی صلاحیتیں نہیں تھیں ۔ البتہ انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر حافظہہ کی قوت عام لوگوں سے زیادہ ہے۔ انھوں نے اپنی اس صلاحیت کو دین کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لئے دعا فرمائیے کہ خدا مجھے وہ علم دے جس کو میں فراموش نہ کر سکوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین کہا اور حضرت ابو ہریرہ کے حق میں یادداشت کی دعا فرمائی ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی غیر معمولی قوت حافظ اسی پیغمبرانہ دعا کا نتیجہ ہے۔ مگر نفسیاتی اعتبار سے دیکھئے تو یہ دراصل خود حضرت ابو ہریرہ کی اپنی تڑپ کا اظہار تھا۔ یہ دو طرفہ واقعہ تھا نہ کہ محض یک طرفہ۔ حضرت ابو ہریرہ نے اپنی خدا داد امتیازی صلاحیت کو پہچانا۔ اس کی حفاظت اور ترقی کی دعائیں کیں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے لئے دعا کرائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرانا در اصل خود اپنی دعا کا ایک تسلسل تھا۔ اس طرح دعاؤں کے سائے میں وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنے ممکن میدان میں ہمہ تن لگ گئے ۔ وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے۔ آپ کی باتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے۔ اس کو ذہن میں محفوظ رکھتے نیز حسب ضرورت اسے لکھ لیتے۔ اسی معرفت خویش کا یہ نتیجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اسلامی تاریخ میں وہ شخص قرار پائے جن کے ذریعہ اگلی نسلوں کو پیغمبر اسلام کی حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں پہنچی ہیں۔ ہر آدمی کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے۔ اپنے آپ کو جان کر وہ اپنے لئے بھی زیادہ مفید بن سکتا ہے اور دین کے لئے بھی۔