Al-Risala · January 1985 · page 22

موجودہ دینی مدارس

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲

موجودہ دینی مدارس

دینی مدارس، بلاشبہ موجودہ زمانہ میں اہم دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کے افادی پہلو پر اتنا زیادہ لکھا جا چکا ہے کہ میری طرف سے اس سلسلے میں صرف تصدیق کافی ہے۔ اس پر مزید اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں۔

تاہم دینی مدارس کی بعض علامات مثلاً ان میں باہمی اختلاف بلکہ تصادم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں مسلک خوبیوں کے باوجود، کوئی کمی ہے۔ اگر کمی نہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ مدارس مسلمانوں کی باہمی جنگ کا میدان بن جائیں۔ حالاں کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ سراسر حرام ہے۔

میرے نزدیک وہ کمی یہ ہے کہ یہ مدارس اپنے افراد کو صرف داخلی نشانہ دیتے ہیں، وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہیں دیتے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ داخلی نشانہ بالآخر باہمی فکر او پیدا کرتا ہے۔ جب کہ خارجی نشانہ یہ کرتا ہے کہ قوتوں کو خارج کی طرف موڑ کر لوگوں کو آپس کے تصادم سے بچا لیتا ہے۔ وہ قوتوں کو خارجی محاذ پر لگا دیتا ہے۔

موجودہ دینی مدارس کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ تحفظ کی نفسیات کے زیر اثر وجود میں آئے۔ چنانچہ ان کا سارا نظام اور نصاب تحفظ کے مقصد کے تحت بنا۔ بالفاظ دیگر ان مدارس نے اول روز سے مسلمانوں کو صرف داخلی نشانہ دیا۔ وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہ دے سکے۔ اور جس قوم کے افراد کے پاس صرف داخلی نشانہ ہو وہ ایک حد پر پہنچ کر ہمیشہ آپس میں ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن میں دینی تعلیم کا جو تصور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایسے افراد تیار ہوں جو غیر مسلم اقوام پر انذار کا کام کریں (التوبہ (۱۲۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی اداروں کا اہم ترین مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کے افراد کو عمل کا خارجی نشانہ دے سکیں۔

تاہم خارجی نشانہ سے میری مراد پر امن خارجی نشانہ ہے نہ کہ اس قسم کا حبار خانہ خارجی نشانہ جس کو موجودہ زمانہ کے جھوٹے قائدین نے دریافت کیا ہے۔

خارجی نشانہ سے میری مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ یعنی پر امن دعوت کے ذریعہ اہل عالم کو خدا کے پیغام سے باخبر کرنا۔ موجودہ مدارس میں اگر تعلیم کے ساتھ دعوت کو بھی اس صحیح اور موثر صورت میں شامل کر دیا جائے تو مدارس زیادہ بامقصد بن جائیں اور زیادہ مفید بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page