Al-Risala · January 1985 · page 23

قومی نفسیات

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

قومی نفسیات

اخبار الجمعتہ (دہلی) کے ایڈیٹر نے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ وہاں وہ مولانا تھانوی کے خلیفہ مولانا احتشام الحق تھانوی (۱۹۲۰ - ۱۹۱۵) سے ملے تھے۔ مولانا مرحوم نے ایڈیٹر صاحب سے دیوبند میں اپنی طالب علمی کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا جس کو انھوں نے اپنے مطبوعہ سفر نامہ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے :

مولانا احتشام الحق تھانوی نے مولانا حسین احمد مدنی کی انگریز دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان کیا کہ انگلستان کی موجودہ ملکہ الزبتھ کے دادا کی تاج پوشی تھی۔ مولا نا حسین احمد مدنی کا (دارالعلوم) دیو بند میں حدیث کا درس ہو رہا تھا۔ کسی طالب علم نے مولانا مدنی کی خدمت میں ایک پرچہ بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج بادشاہ کی تاج پوشی کا دن ہے۔ اس لئے برطانوئی حکومت کے لئے بد دعا ہونی چاہئے۔ مولانا مدنی نے فوراً درس روک دیا۔ کتاب بند کر دی اور فرمایا کہ بالکل صحیح ہے۔ اور اس کے بعد مولانا نے کچھ اس انداز میں (بد) دعا کرانی شروع کی کہ طلبہ پر رقت طاری ہو گئی ( روز نامہ الجمعتہ دهلی ، ۱۳ نومبر ۱۹۷۹)

یہ واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین کی نفسیات کی نمائندگی کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں تقریبا تمام قائدین کا یہ حال رہا ہے کہ دوسری قومیں ان کے لئے نفرت اور عداوت کا موضوع بن گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسری قوموں کو انھوں نے اپنا حریف اور رقیب سمجھا۔ ان کو وہ اپنے دین کا مدعو نہ سمجھ سکے۔

قومی ذہن اور دعوتی ذہن دونوں بالکل الگ الگ ذہن ہیں اور دو مختلف نفسیات بناتے ہیں۔ قومی حریف کے لئے آدمی کے اندر نفرت اور دشمنی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب یہ ذہن ہو کہ ہم خدا کے دین کے داعی ہیں اور دوسری قو میں خدا کے دین کی مدعو، تو ان کے لئے ہمارے دل میں خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبات امنڈنے لگیں گے۔

حریف کے لئے آدمی کے اندر سے بد دعا کے کلمات نکلتے ہیں اور مدعو کے لئے دعا کے کلمات ۔ مگر اس قسم کی بد دعا سراسر خدائی منصوبے کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے بزرگوں کی زبان سے نکلنے کے باوجود وہ آج تک خدا کی بارگاہ میں قبول نہ ہو سکی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page