دعوت میں انہماک
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶
فضا میں رکھا جائے ۔ جب کہ آدمی عبادات و اذکار میں وقت گزارے دوسروں کو دینی زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرے ، اور اس طرح تربیت یافتہ ہو کر جب اپنے وطن واپس آئے تو آئندہ مسجد والی زندگی میں مصروف ہو جائے مسجد والی زندگی ہی مولانا کے نزدیک دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضامن تھی۔
ایک جماعت کے نام خط میں اس طرح طریق کار کی وضاحت فرماتے ہیں:
”دین سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ہر شخص سے خواہ کسی شعبہ سے متعلق ہو، چار ماہ کا۔ مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اپنے مشاغل، ساز و سامان اور گھر بار سے نکل کر ان چیزوں کی دعوت دیتے ہوئے اور خود مشق کرتے ہوئے ملک بہ ملک ، اقلیم بہ اقلیم ، قوم بہ قوم ، قریہ بہ قریہ پھریں گے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر امتی کو مسجد والا بنایا تھا ۔ مسجد کے کچھ مخصوص اعمال دیے تھے ۔ مسجد میں اللہ کی بڑائی کی، ایمان کی اور آخرت کی باتیں ہوتی تھیں، اعمال سے زندگی بننے کی باتیں ہوتی تھیں، عملوں کے ٹھیک کرنے کی تعلیمیں ہوتی تھیں۔ ایمان وعمل صالح کی دعوت کے لیے ملکوں اور علاقوں میں جانے کی تشکیلیں بھی مسجد ہی سے ہوتی تھیں ۔ اللہ کے ذکر کی مجلسیں مسجدوں میں ہوتی تھیں۔ یہاں تعاون ، ایثار، ہمدردیوں کے اعمال ہوتے تھے، ہر شخص حاکم ، محکوم ، مالدار، غریب ، تاجر ، زارع، ، مزدور، مسجد میں آکر زندگی سیکھتا تھا۔ اور باہر جا کر اپنے اپنے شعبہ میں مسجد والے تاثر سے چلتا تھا۔ آج ہم دھوکے میں پڑ گئے کہ ہمارے پیسے سے مسجد چلتی ہے۔ مسجدیں اعمال سے خالی ہو گئیں اور چیزوں سے بھر گئیں۔ حضور صلعم نے مسجد کو بازار والوں کے تابع نہیں کیا حضور صلعم کی مسجد میں نہ بجلی تھی ، نہ پانی تھا، نہ غسل خانے تھے، خرچ کی کوئی شکل نہ تھی۔ مسجد میں آکر داعی بنتا تھا، معلم اور متعلم بنتا تھا، ذاکر بنتا تھا۔ نمازی بنتا تھا، مطیع بنتا تھا، متقی زاہد بنتا تھا، خلیق بنتا تھا، باہر جا کر ٹھیک زندگی گزارتا تھا۔ مسجد بازار والوں کو چلاتی تھی۔ ان چار ماہ میں ہر جگہ جا کر مسجدوں میں ہر امتی کو لانے کی مشق کریں مسجد والے اعمال کو سیکھتے ہوئے دوسروں کو یہ محنت سیکھنے کے لیے تین چلوں کے واسطے آمادہ کردیں۔ واپس اپنے مقام پر آکر اپنی بستی کی مسجد میں ان اعمال کو زندہ کرنا ہے، ہفتہ میں دو مرتبہ گشت کے ذریعہ بستی والوں کو جمع کرکے انہیں چیزوں کی طرف متوجہ کرنا اور مشق کے لیے فی گھر ایک نفر تین چلوں کے لیے باہر نکلنا ہے۔ ایک گشت اپنی مسجد کے ماحول میں اور دوسرا گشت دوسری مسجد کے ماحول میں کریں۔ ہر مسجد میں مقامی جماعت بھی بنائیں ہر مسجد کے احباب روزانہ