Al-Risala · May 1985 · page 37

غیر مسلموں میں تبلیغ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷

فضائل کی تعلیم کریں ۔ اپنے شہر یا بستی کے قریب دیہات میں کام کی فضا بنے ، اس کے لیے ہر مسجد سے تین یوم کے لیے جماعتیں پانچ کوس کے علاقے میں جائیں ۔ ہر دوست مہینے میں تین یوم پابندی سے لگائے ۔ الحسنۃ بعشر امثالھا کے مصداق تین دن پر حکماً تیس دن کا ثواب ملے گا ۔ پورے سال ہر مہینے تین دن لگائے تو سارا سال اللہ کی راہ میں شمار ہوگا ۔ اشاعت سے پر ہیز مولانا اشاعت کے عام طریقوں کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: " اس کام کی تعمیم کے لیے روایتی طریقوں ۔ اخبار ، اشتہار پریس وغیرہ اور روایتی الفاظ سے بھی پورے پر ہیز کی ضرورت ہے ۔ یہ کام سارا کا سارا غیر روایتی ہے ۔ روایتی طریقوں سے رواج کو تقویت پہنچے گی اس کام کو نہیں ۔ اصل کام کی شکلیں ، دعوت، گشت ، تعلیم تشکیل وغیرہ ہیں “ مولانا کے ذہن میں لٹریچر کا جو تصور تھا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباس سے ہوتا ہے:

وہ فضائل قرآن مجید پڑھ کر منور کی دردِ کلام پاک کی ان سورتوں کی تجوید کی مشق کی جائے جو عموماً نمازوں پر پڑھی جاتی ہے ۔ اللہ پاک توفیق دیں تو ہر کتابیں سے تین چار صفحے پڑھے جائیں ۔ تعلیم میں اپنی طرف سے تقریرنہ ہو ، حدیث شریف پڑھنے کے بعد دو تین جملے ایسے کہہ دیے جائیں کہ اس سے عمل کا جذبہ ابھرے ۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب دامت برکاتہم کی تالیف فرمودہ فضائل قرآن مجید ، فضائل نماز ، فضائل تبلیغ ، فضائل ذکر فضائل صدقات حصہ اول دوم ، فضائل رمضان ، فضائل حج ، (ایام حج در رمضان میں) اور مولانا احتشام الحسن صاحب کا ندھلوی دام مجدہ کی (مسلمانوں کی موجودہ پستی کا واحد علاج) صرف یہ کتاب میں ہیں جن کو اجتماعی تعلیم میں پڑھنا اور سننا ہے اور تنہائیوں میں بیٹھ کر بھی ان کو پڑھنا ہے“ اشاعت سے پر ہیز کا یہ عالم تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے مکاتیب کی تلاش میں ایک صاحب نے دہلی کا سفر کیا۔ مگر وہاں ایک مکتوب کی نقل بھی محفوظ نہیں مل سکی ۔ حالانکہ آپ کثرت سے خطوط لکھتے تھے ۔

غیر مسلموں میں تبلیغ

غیر مسلموں میں تبلیغ کے بارے میں مولانا کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جب تک مسلمانوں میں دینی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page