اجتماعیت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸
زندگی پیدا نہ ہو ، اغیار میں دین کے لیے کشش پیدا نہیں ہوسکتی ۔ ایک دفعہ فرمایا : " جب تک یقین اور علم نبوت کے مطابق عبادات درست نہ ہو جائیں ، اخلاق نہیں آتے اور جب تک ہم میں اخلاق نہیں آئیں گے دوسروں میں دین نہیں پھیلے گا ۔ اغراض کے لیے کسی سے سلوک کرنا اخلاق نہیں ہے بلکہ کوئی کام بھی جب تک اس میں اخلاص نہ ہو اس کی قطعاً کوئی قیمت نہیں ہے عمل اخلاص کے بغیر مردہ ہے اور دیکھو ، گھروں ، بازاروں ، دفتروں ، یہاں تک کہ مدارس و مساجد میں بھی ایسے مرداروں کے ڈھیر لگ رہے ہیں "
اسی لیے آپ کم از کم پہلے مرحلہ میں اصلاح و تبلیغ کی زیادہ تر کوشش مسلمانوں پر صرف کرنا ضروری سمجھتے تھے ۔
اجتماعیت
مولانا اجتماعیت کو بڑی اہمیت دیتے تھے ۔ اپنے رفقاء کو آپ کی ہدایت ہوتی تھی کہ " ہر کام کو اجتماعی کریں ۔ حتی کہ سفر میں بھی یکجا رہنے کی بھر پور کوشش کریں ، مگر اجتماعیت کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر عام تصور سے کچھ مختلف تھا ۔ اس کو ہم شاید اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ آپ کے نزدیک اجتماعیت کی اہمیت تھی مگر جماعت بندی کی نہیں ۔ فرماتے ہیں :
" ہم نے اس کام کے لیے کوئی انجمن نہیں بنائی نہ اس کا کوئی دفتر ہے نہ رجسٹر ہے نہ فنڈ ہے یہ سارے ہی مسلمانوں کا کام ہے ہم نے مروجہ طریقہ پر کوئی علیحدہ جماعت بھی نہیں بنائی ہے ۔ جس طرح مسجد میں نماز کے عمل پر مختلف طبقوں اور مشغولوں والے مسلمان آکر جڑ جاتے ہیں اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں اور مشغلوں میں چلے جاتے ہیں اسی طرح ہم آپ سب سے کہتے ہیں کہ کچھ وقت کے لیے اپنے گھروں اور مشغلوں سے نکل کر یہ محنت اور مشق کر لیجئے ۔ اور پھر اپنے گھروں اور مشغلوں میں اگر ان اصولوں کے مطابق لگ جایئے ۔ آپ نے اگر یہ چیز محنت کر کے حاصل کر لی تو دنیا بھر کے سائنس والے آپ سے یہ طریقہ سیکھنے آئیں گے اور خدا نے چاہا تو آپ دنیا کے امام ہوں گے " حکمت تبلیغ ایک تقریر میں تبلیغی کارکنوں کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا :
خصوصی گشت میں اگر دیکھا جائے کہ وہ صاحب جن سے آپ ملنے گئے ہیں اس وقت توجہ سے بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو مناسب طریقہ سے جلدی سے بات ختم کر کے ان کے پاس سے اٹھ آنا چاہیے ۔ اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اگر دیکھا جائے کہ وہ صاحب متوجہ ہیں تو پھر پوری بات ان