اجتماعیت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹
کے سامنے رکھنی چاہیۓ... خصوصی گشت میں جب دینی اکابر کی خدمت میں حاضری ہو تو ان سے صرف دعا کی درخواست کی جائے ادا ان کی توجہ دیکھی جائے تو کام کا کچھ ذکر کر دیا جائے " دعا مولانا کی تقریروں کا خاتمہ ہمیشہ دعا پر ہوتا تھا۔ لفظ " دعا " اپنے عام استعمالی مفہوم کے لحاظ سے شاید اس کی کیفیت کو ادا کرنے سے قاصر ہے جو مولانا کی دعائیں ہوتی تھی۔ مولانا کی دعوت کا اصل اور مغز اللہ سے استعانت اور دعا کا تعلق پیدا کرنا تھا۔ اور یہ چیز ان کی دعا میں اس طرح ابھر آتی تھی کہ اس وقت وہ اپنی دعوت کا مجسم نمونہ بن جاتے تھے۔ ایک واقف حال کے الفاظ میں " جب دعا کرتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ نہ اس سے پہلے دعا کی ہے نہ اس کے بعد کریں گے۔ سب کچھ اسی دعا میں مانگ لینا ہے اور سب کچھ اسی دعا میں کہہ دینا ہے " مولانا کی دعا کی کیفیت ، اس کے مضامین ، اس کی آمد اور جوش و خروش اس کی رقت انگیزی اور اس کی تاثیر مولانا کے ان خصائص میں سے تھی جن کی مثال دور دور دیکھنے میں نہیں آتی۔ جب دعا کرتے ، حاضرین کا عجیب حال ہوتا ، خاص طور پر جب اردو میں دعا کے الفاظ اور فرماتے تو آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑتا ۔ دور دور سے رونے والوں کی ہچکیاں سننے میں آتیں " ایک صاحب جو ایک اجتماع میں شریک تھے ، لکھتے ہیں :
" مولانا محمد یوسف صاحب نے دعا کی ۔ اپنے گناہوں کی توبہ ، مغفرت ، آخرت کی سرخروئی ، دین کی عظمت ، تمام انسانوں کے لیے ہدایت طلبی ، یہ سب باتیں اللہ سے طلب کی گئیں۔ دعایوں مانگی گئی جس طرح مانگنے کا حق ہوتا ہے۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو رونی نہ ہو کوئی زبان نہ تھی جو ہلی نہ ہو، کوئی دل نہ تھا جو پھٹ پڑنے پر نہ آیا ہو۔ بس ایک ہی احساس تھا کہ اتنی زندگی جو گزری ناکامی میں گزری ۔ میں ہی سراپا معصیت ہوں ۔ سب برائیاں مجھ ہی میں ہیں۔ اے اللہ ان سب کو تاہیوں کو معاف فرما اور میری زندگی کو اپنے راستے پر لگادے "
ایک دعا جو اتفاق سے ٹیپ ریکارڈ ر کے ذریعہ محفوظ ہو گئی ہے ، اس کے چند الفاظ یہ ہیں :
اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما... اے خدا ہماری محنت کے بگڑ جانے کے اس جرم عظیم کو معاف فرما جس جرم عظیم سے ہزاروں خرابیاں ہم میں پیدا ہو گئی ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس محنت پر ڈال کر گئے اس محنت کو چھوڑ کر ہم ان محنتوں میں الجھ گئے جن محنتوں سے وہ نکال کر گئے تھے ..... اے اللہ ہمیں عصیاں کے دریاؤں سے نکال دے اور ہمیں طاعت کی سڑکوں پر ڈال دے ...