Al-Risala · January 1985 · page 44

اسلام کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

اسلام کیا ہے

موجودہ زمانہ میں جب یہ کہا گیا کہ "مذہب ایک انفرادی معاملہ ہے" تو اس کے جواب میں پرجوش طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ "مذہب ایک مکمل اجتماعی نظام ہے۔ " بظاہر یہ دونوں گر ایک دوسرے سے الگ نظر آتے ہیں۔ مگر دونوں کے درمیان ایک چیز مشترک ہے۔ دونوں ہی گروہ مذہب کا تصور ایک " ڈھانچہ" کی صورت میں کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلا گروہ وہ اس کو انفرادی ڈھانچہ کے معنی میں لیتا ہے۔ اور دوسرا گروہ اجتماعی ڈھانچہ کے معنی میں۔

مگر مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نہ انفرادی ڈھانچہ ہے اور نہ اجتماعی ڈھانچہ۔ وہ ایک ربانی طریقہ ہے۔ مذہب (اسلام) کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے خدا کی معرفت حاصل کرے۔ وہ غیبی حقیقت کو اپنے لئے مشہود حقیقت بنائے۔ اس کے قلب و دماغ پر خدا اور آخرت کا اتنا غلبہ ہو کہ وہ ہر وقت اس کی بابت سوچے ۔ اس کی زندگی کا ہر رویہ اسی رنگ میں رنگا ہوا ہو۔

اسلام کا اصل مقصد ربانی انسان کو وجود میں لانا ہے۔ ایک ایک فرد کو خدا کی محبت اور خوف میں ڈھالنا ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہر انسان اپنے وجود کے اندر اس ربانی انسان کی تخلیق کرے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرے۔ جو سب سے زیادہ آخرت کے لئے فکر مند ہو۔ جو اپنے روزمرہ کے معاملات میں سب سے زیادہ خدا کی مرضی کا لحاظ کرے، جو نفس اور شیطان کو چھوڑ کر ایک خدا کے آگے جھک جائے۔ ایمان و اسلام کیا ہے۔ یہ دراصل ایک دریافت (Discovery) ہے۔ خدا کی دریافت۔

ایک بندہ جب ظاہری چیزوں سے گزر کر حقیقت کو دیکھ لیتا ہے، جب وہ مخلوقات سے اوپر اٹھ کر خالق کو پالتا ہے تو اسی کا نام ایمان و اسلام ہے۔ یہ ایک ایسا دیکھنا ہے جس کو لوگوں نے نہیں دیکھا۔ یہ ایک ایسا پانا ہے جس کو لوگوں نے نہیں پایا ۔ ایمان و اسلام ایک تجربہ ہے جو انسانی روح میں ایک بھونچال پیدا کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت کی زد میں آسا ہے جو آدمی کے پورے وجود کو کچھ سے کچھ بنا دیتا ہے۔ یہ پیدا شدہ انسان کا دوبارہ پیدا ہونا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا مخاطب فرد ہے نہ کہ اجتماع۔ اجتماع کے اندر وہ نفسیاتی واقعات ظہور ہی میں نہیں آتے جو اسلام کا اصل مقصود ہیں۔ اجتماع کو اسلام کا منما طب بنانا اسلام کو گھٹانا ہے نہ کہ اس کو مکمل کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page